ترجمہؔ ہے یا یوں کہہ سکتے ہیں کہ بجز چند اشعار کے جو الحاق اور جعلسازی کے طور پر باوا صاحب کی طرف منسوب
کئے گئے ہیں باقی کل اشعار جو باوا صاحب کے منہ سے نکلے ہیں وہ قرآن مجید کی متفرق آیتوں کے ترجمے ہیں۔ ہم نے بہت فکر اور غور سے گرنتھ کو پڑھا ہے اور جہاں تک انسانی طاقت ہے خوب
ہی سوچا ہے آخر نہایت صفائی سے یہ فیصلہ ہوا کہ باوا نانک صاحب نے قرآن شریفؔ
بہت شوخ تو یہ غلطی ہوگی کہ رنگ کے لحاظ سے ان میں وہ مقابلہ ثابت کریں جو ضدوں میں ہوتا ہے
لیکن مراتب کے لحاظ سے ان میں باہم تفاوت ہو سکتا ہے۔ یعنی ایک بہت شوخ رنگ ہے اور ایک کم اور ایک اس سے کم یہاں تک کہ ایک اس ادنیٰ مرتبہ پر ہے جس نے رنگ میں سے بہت ہی کم حصہ لیا
ہے سو ایسا شخص جو ربانی فیض کے رنگ سے کم حصہ رکھتا ہے اسی کو قرآنی اصطلاح میں شقی کہتے ہیں اور جس نے کافی حصہ لیا اس کا نام سعید ہے۔ خدا تعالیٰ نے اپنی پاک کلام میں مخلوقات
کو سعادت اور شقاوت کے دو حصوں پر تقسیم کر دیا ہے مگر ان کو حسن اور قبح کے دو حصوں پر تقسیم نہیں کیا اس میں حکمت یہ ہے کہ جو خدا تعالیٰ سے صادر ہوا اس کو ُ برا تو نہیں کہہ سکتے
کیونکہ اس نے جو کچھ بنایا وہ سب اچھا ہے ہاں اچھوں میں مراتب ہیں۔ پس جو شخص اچھا ہونے کے رنگ میں نہایت ہی کم حصہ رکھتا ہے وہ حکمی طور پر ُ برا ہے اور حقیقی طور پر کوئی بھی برا
نہیں۔ خدا فرماتا ہے کہ میری مخلوق کو دیکھ کیا تو اس میں کوئی بدی پاتا ہے سو کوئی تاریکی خدا تعالیٰ سے صادر نہیں ہوئی بلکہ جو نور سے دور جا پڑا وہ مجازاً تاریکی کے حکم میں ہوگیا۔ باوا
صاحب کے گرنتھ میں اس کا بہت بیان ہے اور ہریک بیان قرآن سے لیا گیا ہے۔ مگر اس طرح نہیں کہ خشک تقلید کے لوگ لیتے ہیں۔ بلکہ سچی باتوں کو سن کر باوا صاحب کی روح بول اٹھی کہ یہ سچ
ہے پھر اس تحریک سے فطرت نے جوش مارا اور کسی پیرایہ میں بیان کر دیا۔ غرض باوا صاحب تناسخ کے ہرگز قائل نہ تھے اور اگر قائل ہوتے تو ہرگز نہ کہتے کہ ہریک چیز خدا سے پیدا ہوئی اور
کوئی بھی چیز نہیں جو اس کے نور سے پیدا نہیں ہوئی۔ اور یاد رہے کہ باوا صاحب نے اپنے اس قول میں بھی قرآنی آیت کی طرف اشارہ کیا ہے اور وہ یہ ہے۱