خدا ؔ نے بھی ان کو وہ عزت دی کہ کروڑ ہا آدمی اعتقاد کے ساتھ ان کے پاؤں پر گرے اور حیات روحانی ان کو حاصل ہوئی سو ہمیشہ کی زندگی پانے کی یہی راہ ہے جس نے سوچنا ہو سوچ لے۔ آنانکہ گشت کوچۂ جاناں مقام شان ثبت است برجریدۂ عالم دوام شان ہرگز نمیرد آنکہ دلش زندہ شد بعشق میرد کسیکہ نیست مرامش مرام شان اے مردہ دل مکوش پئے ہجو اہل دل جہل و قصور تست نفہمی کلام شان قولہ۔ نانک جی کے سامنے کچھ ان کا سمپردائے وبہت سے شش نہیں ہوئے تھے۔ کیونکہ اودہ وانوں میں یہ حال ہے کہ مرے پیچھے ان کو سدھ بنا لیتے ہیں۔ ’’پشچات بہت سا مہاتم کر کے ایشر کے سمان مان لیتے ہیں۔‘‘ یعنی نانک جی کا کچھ پورا پورا تسلّط نہیں ہوا تھا۔ اور نہ سکھ ہی بنے تھے۔ کیونکہ جاہلوں کا دستور ہے کہ مرنے کے بعد مردوں کو سادھ اور بھگت قرار دیدیتے ہیں۔ اقول۔ پنڈت صاحب کا اس تقریر سے یہ مطلب ہے کہ نانک درحقیقت کوئی اچھا آدمی نہیں تھا۔ مرنے کے بعد خواہ نخواہ اس کو بھگت بنایا گیا۔ مگر درحقیقت دیانند کی یہ تمام باتیں ایک ہی کینہ کی وجہ سے ہیں یعنی یہ کہ باوا صاحب وید کو ایک فضول کتاب اور گمراہ کرنے والی کہانی کہتے تھے اور یہی جابجا نصیحت کرتے تھے اور ان کی زندگی کے مقاصد میں سے اعلیٰ مقصد یہی تھا کہ وہ لوگوں کو وید سے چھوڑا کر خدا تعالیٰ کے پاک کلام کی جو قرآن شریف ہے مصدق بناویں اور درحقیقت ان کا وجود خدا تعالیٰ کی قدرتوں کا ایک عظیم الشان نمونہ تھا جس کی تمام مسلمانوں کو قدر کرنی چاہئے۔ اس خدا نے جو اپنے پاک نبی کے لئے پتھروں اور درختوں اور درندوں سے گواہی دلائی اس آخری زمانہ میں ان کے لئے جو تاریکی میں بیٹھے تھے انہیں میں سے ایک چمکتا ہوا ستارہ نکالا اس نے اس نور کی گواہی دی جو دنیا کو روشن کرنے کے لئے آیا تھا۔ نور کو تاریکی شناخت نہ کر سکی آخر اس نے شناخت کیا جس کو نور میں سے حصہ دیا گیا تھا۔ پاک ہے وہ خدا جس نے اسلام کے لئے یہ گواہیاں پیدا کیں۔ اس صادق انسان نے ویدوں کو گمراہی کی تعلیم کہہ کر نا اہل پنڈتوں سے گالیاں کھائیں اگر وہ ویدوں سے