یہ باؔ وا صاحب کی بڑی کرامت ہے کہ اس زمانہ میں انہوں نے ویدوں کی حقیقت معلوم کرلی جبکہ وید ایسے گم تھے کہ
گویا نابود تھے۔ لیکن دیانند ایسے زمانہ میں بھی نابینا رہا جبکہ انگلستان اور جرمن وغیرہ میں ویدوں کے ترجمے ہو چکے تھے۔ اور پھر دیانند نے جو طعن کے طور پر لکھا یعنی یہ کہ اگر وید کے
جاننے والے مرگئے تو کیا باوا نانک ہمیشہ کے لئے زندہ رہ گئے*۔ یہ بھی اس کی کمال نادانی تھی جو باوا صاحب کی باریک اور ُ پرمعرفت بات کو نہ سمجھ سکا۔ باوا صاحب کا یہ مطلب تو نہیں تھا کہ
وید کے جاننے والے جسمانی موت سے مرے تا باوا صاحب کی موت کا ذکر کرنا اس کو زیبا ہوتا۔ اس بات کو کون نہیں جانتا کہ جسمانی موت ہریک کو درپیش ہے بلکہ باوا صاحب کا تو یہ مطلب تھا کہ
وہ روحانی زندگی جو سچے مذہب کے پیرو ہونے کی حالت میں اور سچی کتاب کے ماننے کی صورت میں انسان کو ملتی ہے وہ زندگی وید کے ماننے والوں کو نہیں ملی اور سب کے سب گمراہی کی
موت میں مرگئے۔ اب باوا صاحب پر ان کی موت کی وجہ سے اعتراض کرنا حماقت ہے۔ کیونکہ بلاشبہ وہ پاک توحید اور پاک کلمہ کی برکت سے ہمیشہ کے لئے زندہ رہے بھلا انصافاًسوچو کہ باوا
صاحب کو فوت ہونے پر قریباً چار سو۴۰۰ برس گذر گئے اور ابتک ان کا چولا جس پر
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
لکھا ہوا ہے جس کو وہ نہایت صدق اور اخلاص سے پہنتے تھے۔ جس کا
ہریک لفظ ان کی دلی حالت کا ترجمان تھا ان کی اولاد کے پاس موجود ہے۔ پس یہ بھی ایک قسم زندگی کی ہے کہ خدا تعالیٰ نیک لوگوں کے کپڑوں کو بھی ضائع ہونے نہیں دیتا۔ دیکھو آریوں کا دیانند ابھی
مرا ہے گویا کل فوت ہوا ہے کیا اس کی ایک لنگوٹی بھی جو باندھا کرتا تھا آریوں کے پاس موجود ہے؟ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی توہین کی خدا نے اس کو ذلیل کیا اور باوا نانک صاحب
نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو اس قدر عزت کی نگاہ سے دیکھا کہ کلمہ طیبہ کا کپڑا اپنا چولا بنا لیا اس لئے