بیزاؔ ر نہ ہو جاتے تو کوئی بھی پنڈت ان کو برا نہ کہتا۔ اب تو باوا صاحب ان پنڈتوں کی نظر میں کچھ بھی نہیں وید کے
مکذب جو ہوئے۔
قولہ۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ویدوں کو نہ سنا نہ دیکھا۔ کیا کریں جو سننے اور دیکھنے میں آوے تو بدہ مان لوگ جو کہ ہٹی درہ گر ہے نہیں دے سب سمپردای والے بیدمت
میں آجاتے ہیں۔ یعنی نانک وغیرہ اس کے سکھوں نے نہ ویدوں کو سنا نہ دیکھا کیا کریں جو سننے یا دیکھنے میں آویں تو جو عقلمند متعصب نہیں وہ فوراً اپنی ٹھگ بدیا چھوڑ کر وید کی ہدایت میں آجاتے
ہیں۔ اقول۔ اس تمام تقریر سے پنڈت صاحب کا مطلب صرف اتنا ہے کہ باوا نانک صاحب اور ان کے پیرو ٹھگ ہیں انہوں نے دنیا کے لئے دین کو بیچ دیا۔ مگر ہرچند یہ تو سچ ہے کہ باوا نانک صاحب نے
وید کو چھوڑ دیا اور اس کو گمراہ کرنے والا طومار سمجھا لیکن پنڈت صاحب پر لازم تھا کہ یوں ہی باوا صاحب کے گرد نہ ہو جاتے اور ٹھگ اور مکاّر ان کا نام نہ رکھتے بلکہ ان کے وہ تمام عقیدے
جو گرنتھ میں درج ہیں اور مخالف وید ہیں اپنی کتاب کے کسی صفحہ کے ایک کالم میں لکھ کر دوسرے کالم میں اس کے مقابل پر وید کی تعلیمیں درج کرتے تا عقلمند خود مقابلہ کر کے دیکھ لیتے کہ ان
دو تعلیموں سے سچی تعلیم کونسی معلوم ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ صرف گالیاں دینے سے کام نہیں نکلتا۔ ہریک حقیقت مقابلہ کے وقت معلوم ہوتی ہے اور ناحق گالیاں دینا سفلوں اور کمینوں کا کام ہے۔
قولہ۔ نانک جی بڑے دھنار اور رئیس بھی نہ تھے۔ پرنتو ان کے چیلوں نے نانک چندو دے اور جنم ساکھی وغیرہ میں بڑے سدھ اور بڑے ایشرج والے لکھے ہیں۔ نانک جی برہما ادی سے ملے بڑی بات
چیت کی سب نے ان کا مان کیا۔ نانک جی کے وواہ میں گھوڑے‘ رتھ‘ ہاتھی سونا چاندی موتی پنا ادی رتنوں سے جڑے ہوئے پارادار نتھا لکھا ہے۔ بھلا یہ گپوڑے نہیں تو کیا ہے یعنی نانک جی کہیں
کے مالدار اور رئیس نہیں تھے۔ مگر ان کے چیلوں نے پوتھی نانک چند ودی اور جنم ساکھی وغیرہ میں بڑے دولتمند اور بھگت کر کے لکھا ہے