جسؔ کا بیان غلط باتوں سے پاک ہوتا ہے۔ باقی ترجمہ دیانند کی کلام کا یہ ہے۔ کیا وید پڑھنے والے مرگئے اور نانک جی وغیرہ گرنتھ والے آپ کو زندہ سمجھتے ہیں یا وہ نہیں مرے۔ وید تو جملہ علوم کا خزانہ ہے جو ویدوں کو کہانی بتائے اس کی سب باتیں کہانی ہیں یعنی وہ خودیاوہ گو ہے (پھر دیانند اشارہ کے طور پر باوا صاحب کو ایک گالی دے کر کہتا ہے) جن گنواروں کا نام سنت اور ہادی رکھا گیا یعنی باوا نانک صاحب وہ بیچارے ویدوں کی تعریف کیا جانیں۔ نانک جی اگر ویدوں پر بھروسہ کرتے تو ان کی مکّاری کیونکر چل سکتی اور کیونکر گرو بن سکتے۔ کیونکہ آپ تو وہ سنسکرت کے علم سے ناواقف تھے تو پھر دوسرے کو وید پڑھا کر کیونکر اپنا سکھ بناتے۔ اقول۔ جس قدر دیانند نے باوا صاحب کے نام نادان اور جاہل اور فریبی اور گنوار اور مکّار اور دنیا پرست اور لالچی وغیرہ وغیرہ اپنی اس کتاب میں رکھے ہیں۔ درحقیقت وہ تمام غصّہ باوا صاحب کے اس شعر کی وجہ سے اور نیز ان اسلامی عقائد کی وجہ سے ہے جو باواصاحب کے اشعار میں بکثرت پائے جاتے ہیں۔ لیکن اگر یہ متعصب پنڈت خدا ترس ہوتا۔ تو یہ تمام وجوہ باوا صاحب کی عظمت اور بزرگی اور نیک بختی پر دلالت کرتی تھیں۔ باوا صاحب ایک راست باز آدمی تھے۔ وہ نادان پنڈتوں کی طرح تعصب اور بخل کے کیچڑ میں مبتلا نہیں تھے۔ اور ان کو وہ روشنی دی گئی تھی جو ان لوگوں کو دی جاتی ہے جو سچے دل سے خدا تعالیٰ کو ڈھونڈتے ہیں اور انہوں نے حق الیقین کی طرح سمجھ لیا تھا کہ ہندوؤں کے وید ضلالت اور گمراہی سے بھرے ہوئے ہیں۔ اس لئے انہوں نے فرمایا کہ چاروں وید کہانی اور یاوہ گوئی ہے۔ کوئی ودّیا ان میں نہیں۔ اور اسی لئے علانیہ طور پر گواہی دے دی کہ خدا تعالیٰ کی وہ تعریفیں جو راست باز اور عارف اور واصلان درگاہ الٰہی کرتے ہیں۔ وید نے اس پاک ذات کی وہ تعریفیں نہیں کیں۔ پس باوا صاحب کا یہ قول سراسر سچ ہے۔ اور آب زر سے لکھنے کے لائق ہے۔ باوا صاحب کے زمانہ پر قریباً چار سو برس گذر گیا۔ اور اب جابجا وید ترجمہ ہو کر مشتہر ہوئے اور معلوم ہوئے کہ ان میں بجز عناصر پرستی اور ستارہ پرستی کے اور کچھ نہیں پس درحقیقت