چاروؔ ں وید کہانی۔ سادھ کی مہما وید نجانی۔ نانک برھم گیانی آپ پرمیشر۔ کیا وید پڑھنے والے مرگئے۔ اور نانک جی آدی اپنے کو امر سمجھتے تھے۔ کیا وے نہیں مرگئے۔ وید تو سب ودّیاؤں کا بھنڈار ہے پرنتو جو چاروں ویدوں کو کہانی کہے۔ اس کی سب باتیں کہانی ہوتی ہیں۔ جن مورکھوں کا نام سنت ہوتا ہے وہ بیچارے ویدوں کی مہما کبھی نہیں جان سکتے۔ نانک جی اگر ویدوں پر بھروسہ کرتے تو ان کا سمپر ڈالی نہ چلتا نہ وے گورو بن سکتے تھے کیونکہ سنسکرت ودّیا تو پڑھی ہی نہیں تھی تو دوسرے کو پڑھا کر شش کیسے بنا سکتے۔ باقی ترجمہ یہ ہے کہ نانک جی اپنے سکھوں کے روبرو وید کے مخالف باتیں کیا کرتے تھے۔ یعنی ایسی تعلیم دیتے تھے جو وید کی تعلیم کے برعکس ہوتی۔ اور کبھی کوئی موافق بات بھی کہتے مگر دل سے نہیں بلکہ اس خوف سے کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ یہ خدا کا قائل نہیں یعنی نانک ایک منافق آدمی تھا۔ وہ درحقیقت ویدوں کی تعلیم سے دل سے بیزار تھا کبھی ویدوں کے موافق کوئی بات اس لئے کہتا تھا کہ تا ہندوؤں کو دھوکہ دیوے اور وہ لوگ سمجھیں کہ یہ شخص ہندو مذہب سے بکلی دست بردار نہیں سو یہ کارروائی لوگوں کے ڈر سے تھی نہ سچے دل سے اور پھر دیانند اپنی اس رائے کی تائید کے لئے کہ نانک درحقیقت ہندو مذہب اور ویدوں سے الگ ہوگیا تھا۔ باوا نانک صاحب کا مندرجہ ذیل شعر اسی غرض سے پیش کرتا ہے اور وہ شعر یہ ہے۔ وید پڑھت برہما مرے چاروں وید کہانی سادھ کی مہما وید نجانی۔ نانک برہم گیانی آپ پرمیشر یعنی وید پڑھتے پڑھتے برہما مرگیا اور حیات جاودانی حاصل نہ ہوئی۔ چاروں وید کہانی یعنی یاوہ گوئی ہے اور خدا تعالیٰ کی وہ تعریف جو راستباز کیا کرتے ہیں ویدوں کو معلوم نہیں یعنی وہ حمد و ثناء اللہ جلشانہ کی جو صادق کے منہ سے نکلتی ہے اور وہ سچی تعریف اس کی اور سچی شناخت اس کی جو عارفوں کو حاصل ہوتی ہے چاروں وید اس سے محروم اور بے نصیب ہیں۔ کیونکہ اے نانک یہ پرمیشر کا خاصہ ہے جو صحیح اور پاک علم سے خاص ہے یعنی ویدوں نے جو صراط مستقیم کو چھوڑ دیا اور گمراہی کی راہیں بتلائیں اس میں وید معذور ہیں کیونکہ وہ اس ایشر برہم گیانی کی طرف سے نہیں ہیں۔