نیوگ سچ ہے *اور ہمارے نیوگ ہو جاتا ہے اب اگرچہ یہ اؔ قرارکافی تھا اور کچھ ضرورت نہ تھی کہ ہم اس رسالہ کو لکھتے
مگر چونکہ وہ اشتہار چوروں اور خیانت پیشہ لوگوں کی طرح لکھا گیا ہے اور صاحب اشتہار اس عاجز کو غلط بیانی کا الزام بھی دیتے ہیں اور پھر زبان دبا کر نیوگ کا اقرار بھی کئے جاتے ہیں اس
لئے ہم نے مناسب سمجھا
نہیں کراتے مگر تم پر افسوس کہ جائز رکھتے ہو کہ تمہاری بہو بھی تمہارے بیٹے کے سوا کسی اور کے پاس جاوے۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس زندگی سے مرنا بہتر
ہے میں نے اسی تفتیش کے لئے قادیان میں ایک جلسہ قرار دیکر آریہ صاحبوں سے اس حقیقت کو دریافت کرنا چاہا چنانچہ ۳۰ جولائی ۱۸۹۵ء کو ایک مسجد میں یہ جلسہ منعقد ہوا۔ اور چار آریہ
صاحبان شامل جلسہ ہوئے اور جب ان سے دریافت کیا گیا تو بعض نے کہا کہ ہمیں خبر نہیں۔ ہم نے ستیارتھ پرکاش کا یہ مقام نہیں پڑھا اور بعض نے بڑے استقلال سے بیان کیا کہ آریہ دھرم کا صرف
یہ عقیدہ ہے کہ بیوہ نیوگ کے ذریعہ سے اولاد لے سکتی ہے میں نہیں جانتا کہ انہوں نے اصل واقعہ کو کیوں چھپایا۔
کے لئے مسلمانوں میں سے کوئی منصف نہ ہو بلکہ اگر مثلاً یہ نزاع آریہ
صاحبوں کی طرف سے ہو تو ہمیں منظور ہے کہ منصف دو شریف اور فاضل آریہ اور دو معزز اور لائق عیسائی انگریز ہوں اور کثرت رائے پر فیصلہ ہو مگر اس شرط سے کہ وہ کثرت رائے حلف کے
ساتھ مؤکد ہو۔ اور اگر یہ نزاع بعض پادری صاحبوں کی طرف سے ہو تو ایسا انہیں بھی اختیار ہے کہ اپنے منصف دو عیسائی اور دو اور شخص جو رائے ظاہر کرنے کے قابل ہوں مقرر کرلیں ہمیں یہ
تقرری بہرحال منظور ہوگی کچھ بھی عذر نہیں ہوگا۔ منہ
* نوٹ )مُردوں سے نیوگ( ناظرین آپ لوگ اس سے تو واقف ہوگئے کہ ہندو عورتیں شہوات فرو کرنے کیلئے زندہ آشناؤں سے نیوگ
کراتی ہیں مگر ڈاکٹر برنیئر نے اپنا چشم دید ماجرا اپنی کتاب کے صفحہ ۱۶۲ میں لکھا ہے کہ مردوں سے نیوگ کرنے کی رسم بھی جدید نہیں بلکہ قدیم سے اور پورانی چلی آتی ہے آپ لوگ تعجب کریں
گے کہ مردوں سے نیوگ کیونکر ہو سکتا ہے مگر اصل بھید کے کھلنے سے کچھ بھی تعجب باقی نہیں رہے گا اب اصل عبارت ہم ذیل میں لکھتے ہیں اور وہ یہ ہے:۔ برہمنوں کا دغا اور فریب یہاں تک
ہے کہ تاوقتیکہ میں نے قطعی دلیلوں سے بخوبی تحقیق نہ کرلیا مجھ کو اس بات پر یقین نہ آتا تھا کہ یہ لوگ ایک خوبصورت لڑکی کو جگن ناتھ کی مباشرت کیلئے اپنے کسی خاص دن میں انتخاب کرتے
ہیں اور وہ لڑکی بڑی دھوم دھام سے مورت کے ساتھ مندر کو جاتی اور تمام رات وہاں رہتی ہے اور یہ برہمن اس کو یہ دم دیتے ہیں کہ خود جگ ناتھ جی رات کو تیرے ساتھ آکر رہیں گے اور تو دیوتا
سے پوچھیو کہ اب کے دفعہ کیسا سماں ہوگا اور آپ کی اس کرپا کے عوض جو آپ مجھ پر کرتے ہیں کس قسم کے پوجا اور چڑھاوا اور رتھ کی روانگی کا جلوس آپ کو پسند ہوگا اور رات کے وقت
ایک شہوت پرست برہمن ایک چھوٹی سی چور کھڑکی کے راہ سے مندر میں پہنچ جاتا اور اس بیچاری کنواری لڑکی سے جو اس کو جگن ناتھ سمجھی ہوتی ہے ہم بستر ہوتا ہے اور جس بات کی برہمنوں
کو ضرورت ہو اس کو یقین کرا جاتا ہے اور جب صبح کو ویسے ہی دھوم دھام سے اس لڑکی کو دوسرے مندروں میں لے جاتے ہیں تو برہمن اس سے کہتے ہیں کہ جو کچھ تم نے دیوتا کی زبان سے سنا
ہے وہ اعلانیہ لوگوں کو سنادو۔ برنیئر صفحہ ۱۶۲ و ۱۶۳