ان ؔ کا دعویٰ کردیا۔ مگر یہ سب شرارت ہے باوا صاحب ایک خاکسار آدمی تھے۔ پنڈت بننے کا ان کو شوق نہیں تھا۔ یہ ریاکاریاں وہ لوگ کیا کرتے ہیں جو دنیا پر نظر رکھتے ہیں۔ مگر افسوس کہ نادان انسان ہرایک آدمی کو اپنے نفس پر قیاس کر لیتا ہے اس لئے یہ مرض اس کا لاعلاج ہے۔ قولہ۔ جب کچھ ایہمان تھا تو مان پرتشتہالئے کچھ دنبہ بھی کیا ہوگا۔ یعنی کچھ لالچ اور دل کی خواہش تھی۔ اس پر کچھ غرور بھی کیا ہوگا۔ اقول۔ اس فقرہ میں دیانند نے یہ ظاہر کیا ہے کہ نانک ایک لالچی اور مغرور آدمی تھا۔ اور تمام فقیری اس کی اسی غرض سے تھی۔ اب ناظرین خیال کریں کہ اس سے زیادہ تر سخت الفاظ اور کیا ہوں گے۔ ایسے سکھ صاحبوں پر نہایت افسوس ہے کہ ان کے گرو کی نسبت ایسے ایسے سخت کلمے کہے جائیں اور پھر بھی وہ آریوں سے محبت کے تعلقات رکھیں ۔بھلا وہ ذرا انہیں الفاظ سے دیانند کو یاد کر کے کوئی اشتہار دے دیں پھر دیکھیں کہ کیونکر آریہ صبر کرتے ہیں۔ اگر باوا صاحب سے سچی محبت اور ان کے لئے سچی غیرت ہے تو اس کا نمونہ دکھلانا چاہئے۔ قولہ۔ ان سے کوئی وید کا ارتھ پوچھتا جب نہ آتا تب پرتشتہانشٹ ہوتی۔ یعنی اگر کوئی ان سے کوئی وید کا مطلب پوچھتا اور ان سے کچھ بن نہ آتا تو سب کاریگری برباد جاتی اور تمام قلعی کھل جاتی۔ اقول۔ یہ تمام گالیاں ہیں اس کا ہم کیا جواب دیں۔ مگر دیانند سے کوئی پوچھے کہ کیا تیری قلعی کھلی یا نہیں۔ کیا ایسے عقیدوں کے شائع کرنے سے کہ ہریک جان کا پرمیشر سہارا نہیں اور نجات جاودانی نہیں اور ہریک فیض کا پرمیشر مبدء نہیں اور خاوند والی عورت دوسرے سے ہم بستر ہو۔ کیا اس سے تیری تمام کاریگری برباد ہو چکی یا اب تک کچھ باقی ہے۔ دیانند کو اس بات پر سارا غصہ ہے کہ باوا صاحب وید کے ان عقائد کو قبول نہیں کرتے تھے اور انہوں نے بہت زور سے ان باتوں کا رد لکھا ہے۔ قولہ۔ اپنے ششوں کے سامنے کہیں کہیں ویدوں کے ورودہ بولتے تھے اور کہیں اچھا بھی کہا ہے۔ کیونکہ جو کہیں اچھا نہ کہتے تو لوگ ان کو ناستک بناتے جیسے کہ ہے۔ وید پڑھت برہما مرے