محض کوئی بھی پیدا نہیں کیا گیا۔ ہریک میں نور کا ذرہ مخفی ہے۔ اس میں باواصاحب نے آیت سے اقتباس کیا ہے۔ اسی لئے اللہ اور نور کا لفظ شعر میں قائم رہنے دیا۔ تا اقتباس پر دلالت کرے۔ اور نیز حدیث اول ماخلق اللہ نوری کی طرف بھی اس شعر میں اشارہ کیا ہے اور یہی باوا صاحب کی عادت تھی کہ قرآن شریف کے بعض معارف ہندی زبان میں ترجمہ کر کے لوگوں کو فائدہ پہنچاتے چنانچہ ان کے اشعار میں صدہا قرآنی آیتوں کا ترجمہ موجود ہے۔ اسی طرح باوا صاحب کا ایک شعر یہ ہے۔ جنہاں درشن اِت ہے اُہناں درشن اُت جنہاں درشن اِتْ نا اُنہاں اِتْ نہ اُت ترجمہ یہ ہے کہ جو لوگ اس جہان میں خدا کا درشن پا لیتے ہیں وہ اس جہان میں بھی پالیتے ہیں۔ اور جو نہیں پاتے وہ دونوں جہانوں میں اس کے درشن سے بے نصیب رہتے ہیں۔ اور یہ شعر بھی اس آیت قرآن کا ترجمہ ہے۔ قولہ ۔چاہتے تھے کہ میں سنسکرت میں بھی پگ اڑاؤں۔ پرنتو بنا پڑھے سنسکرت کیسے آ سکتا ہے یعنی باوا نانک صاحب سنسکرت میں خوا نخواہ پاؤں اڑاتے تھے۔ بھلا سنسکرت پڑھنے کے بغیر کیسے آ سکتا ہے۔ اقول۔ یہ کلمہ بھی متکبرانہ ہے۔ دیانند نے چار حرف سنسکرت کے تو پڑھ لئے مگر تکبر کی زہر نے اس کو روحانی زندگی سے محروم کر دیا جو نیک دلوں کو حاصل ہوتی ہے۔ قولہ۔ ہاں ان گرامنیوں کے سامنے جنہوں نے سنسکرت کبھی سنا بھی نہیں تھا سنسکرتی بنا کر سنسکرت کے بھی پنڈت بن گئے ہوں گے یعنی ان گاؤں والوں کے سامنے جنہوں نے کبھی سنسکرت سنی بھی نہ تھی ایسی ایسی عبارتیں سنسکرت کی بنا کر پنڈت بن گئے ہوں گے۔ اقول۔ اس نااہل پنڈت کا ارادہ یہ ہے کہ باوا صاحب کو نہ صرف نادان اور جاہل کہے۔ بلکہ ان کو فریبی اور مکار بھی بناوے۔ اسی لئے لکھتا ہے کہ جو لیاقتیں ان میں موجود نہیں تھیں۔ عوام کو دھوکہ دینے کے لئے