اور ناؔ پاکی کی راہوں کو چھوڑ دے۔ لیکن دینی علم اور پاک معارف کے سمجھنے اور حاصل کرنے کیلئے پہلے سچی پاکیزگی کا حاصل کرلینا اور ناپاکی کی راہوں کا چھوڑ دینا ازبس ضروری ہے اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے ۱؂ یعنی خدا کی پاک کتاب کے اسرار کو وہی لوگ سمجھتے ہیں جو پاک دل ہیں او رپاک فطرت اور پاک عمل رکھتے ہیں۔ دنیوی چالاکیوں سے آسمانی علم ہرگز حاصل نہیں ہو سکتے پس اگر علوم سے یہی فریب اور تزویر اور انسانی منصوبہ بازیاں اور بخل اور باطل پرستی مراد ہے تو ہم بھی دیانند صاحب سے اتفاق کرتے ہیں کہ یہ سب علوم انہیں کو نصیب ہوئے اور باوا صاحب کو حاصل نہ تھے اور اگر علوم سے وہ علوم مراد ہیں جو تقویٰ اور ریاضت اور جوگ اور پاک دلی سے حاصل ہوتے ہیں اور پرہیزگار انسانوں پر ہی کھلتے ہیں تو اس میں کچھ بھی شک نہیں کہ باوا صاحب ان علوم کی روشنی سے منور کئے گئے تھے۔ مگر دیانند ان پاک معارف سے بالکل بے خبر تھا اور بے خبر ہی مرگیا۔ قولہ۔ وید آدی شاستر اور سنسکرت کچھ بھی نہیں جانتے تھے جو جانتے ہوتے تو نربھی شبد کو نربھو کیوں لکھتے۔ اقول۔ یہ صرف تکبر اور خود پسندی کی وجہ سے ایک بدگمانی ہے۔ اگر یہ بات سچی ہوتی تو یہ الزام دینا ان پنڈتوں کا حق تھا۔ جو باوا صاحب کے زمانہ میں موجود تھے ہم نے تو سنا ہے کہ باوا صاحب جس پنڈت سے بحث کرتے تھے اس کو لاجواب اور ساکت کر دیتے تھے۔ باوا صاحب کے گرنتھ پر غور کرنے والوں پر یہ بات پوشیدہ نہیں کہ ویدوں کے ان اصولوں سے باوا صاحب نے صاف انکار کر دیا ہے جن کو سچائی کے مطابق نہیں پایا۔ مثلاً ویدوں کے رو سے تمام ارواح اور ذرات غیر مخلوق اور انادی ہیں۔ لیکن باوا صاحب کے نزدیک تمام ذرات اور ارواح مخلوق ہیں۔ جیسا کہ وہ فرماتے ہیں۔ اول اللہ نور اُپایا قدرت کے سب بندے اک نور سے سب جگ الجھا کون بھلے کون مندے یعنی خدا تعالیٰ نے ایک نور پیدا کر کے اس نور سے تمام کائنات کو پیدا کیا۔ پس پیدائش کی رو سے تمام ارواح نوری ہیں یعنی نیک و بد کا اعمال سے فرق پیدا ہوتا ہے ورنہ باعتبار خلقت ظلمت