وہ ؔ چھپ بھی جائیں اور دیانند کو خبر نہ ہو۔ پس یہ بھی ایک باوا صاحب کی کرامت ہے کہ دیانند نے ایک لفظ کا ان پر الزام دینا چاہا اور خود اس پر کئی ورقوں کا الزام آگیا۔ علاوہ اس کے باوا صاحب کو حقائق سے بحث اور غرض تھی وہ ناچیز برہمنوں اور کم ظرف پنڈتوں کی طرح صرف الفاظ پرست نہیں تھے۔ اور غالباً وہ ان لفظی نزاعوں میں جو برہمنوں کے فرقوں میں ادنیٰ ادنیٰ باتوں میں ہوا کرتی ہیں کبھی نہیں پڑے۔ اور نہ اس جنس کے سفلی خیالات کی ان کے روح میں استعداد تھی۔ دیانند کو باوا صاحب کی تحقیر کے وقت شرم کرنی چاہئے تھی کیونکہ وہ خود ایسے موٹے خیالات اور غلطیوں میں گرفتار تھا کہ دیہات کے گنوار بھی اس سے بمشکل سبقت لے جا سکتے تھے۔ دیانند نے باوا صاحب کی باتوں پر انصاف کی نظر سے غور نہیں کی۔ اور اپنے نہایت درجہ کے بخل سے ان کے معارف کو چھپانا چاہا۔ اس کی بات بات سے یہ ٹپکتا ہے کہ اس نے نہ صرف بخل اور حق پوشی کی راہ سے بلکہ شرارت سے بھی ایک ناجائز حملہ باوا صاحب پر کیا ہے۔ ہم مناسب دیکھتے ہیں کہ مختصر طور پر اس پرچہ میں اس حملہ کا جواب دیدیں۔ چنانچہ ذیل میں بطور قولہ و اقول کے لکھا جاتا ہے۔ منقول از صفحہ ۷۸۶ ستیارتھ پرکاش قولہ۔ نانک جی کا آش تو اچھا تھا ۱؂۔ پر ودیا کچھ بھی نہیں تھی۔ یعنی نانک جی جو خدا طلبی اور فقر کے خیال میں لگ گئے یہ خیال تو اچھا تھا مگر علم سے بالکل بے بہرہ تھے۔ اقول۔ دیانند کے اس حملہ سے اصل غرض یہ ہے کہ فقر اور جوگ پوری ودیا کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔ اور نانک جی علم سے بکلی بے نصیب تھے۔ اس لئے خدا شناسی کا دعویٰ بھی صحیح نہیں تھا لیکن یقیناً سمجھنا چاہئے کہ باوا صاحب پر جہالت کا الزام دینے سے خود دیانند نے اپنی پردہ دری کرائی ہے اصل حقیقت یہ ہے کہ دینی علم اور آسمانی معارف جن کا جاننا فقرا کے لئے ضروری ہے وہ اس طور سے حاصل نہیں ہوا کرتے جس طور سے دنیوی علم حاصل ہوتے ہیں دنیوی علموں میں کچھ بھی ضروری نہیں کہ انسان ان کی تحصیل کے وقت ہر قسم کے فریب اور جعل اور چالاکی