انصاؔ ف اور حق جوئی کا پہن لیتا ہے تب باوا صاحب کی طرح آسمانی چولا اس کے لئے اترتا ہے جس پر پاک کلام قدرت سے لکھا ہوا ہوتا ہے۔ مگر دیانند نے نہ چاہا کہ اس پلید چولے بخل اور تعصب کو اپنے بدن پرسے دفع کرے۔ اس لئے پاک چولا اس کو نہ ملا اور سچے گیان اور سچی ودیا سے بے نصیب گیا۔ باوا صاحب نے جوانمردی سے سفلی زندگی کا چولا پھینک دیا۔ اس لئے وہ آسمانی چولا ان کو پہنایا گیا۔ جس پر قدرت کے ہاتھ نے گیان اور معرفت کی باتیں لکھی ہوئی تھیں اور وہ خدا کے منہ سے نکلی تھیں۔ اور یہ بھی یاد رہے کہ جس زبان میں باوا صاحب نے پرورش پائی تھی۔ وہ زبان ویدک سنسکرت سے بہت ہی ملتی تھی۔ اور دراصل وہ تھوڑے تغیر کے بعد ویدک سنسکرت ہی تھی۔ جیسا کہ ہم نے کتاب منن الرحمن میں تحقیق اَلْسنہ کے تقریب میں بہت وضاحت کے ساتھ اس مطلب کو لکھا ہے۔ لہٰذا باوا صاحب کو وید کے پڑھنے میں بہت ہی آسانی تھی گویا انہیں کی زبان میں وید تھا۔ اس لئے جو کچھ ان کو وید کی اصل حقیقت جاننے میں بہت کچھ موقعہ ملا اور ساتھ اس کے عارفانہ طبیعت کی زیرکی نے بھی مدد دی۔ یہ موقعہ ایسے پنڈت کو کہاں مل سکتا تھا جو ناحق کے تعصب اور فطرتی غباوت میں غرق تھا۔ اور دیانند کا نربھو کے لفظ کو پیش کرنا کہ دراصل یہ نربھے ہے اور اس سے باوا صاحب کی جہالت ثابت کرنا نہایت سفلہ پن کا خیال ہے کیونکہ باوا صاحب کا اس کتاب میں ویدک سنسکرت پیش کرنا ارادہ نہ تھا۔ افسوس کہ اس زود رنج پنڈت نے ایک ادنیٰ لفظی تغیر پر اس قدر احمقانہ جوش دکھلایا حالانکہ جائز تھا کہ باوا صاحب نے دراصل نربھے ہی لکھا ہو اور پھر سہو کاتب سے نربھو ہوگیا ہو۔ اگر اس قدر سہو کاتب ماننے کے لائق نہیں اور خواہ نخواہ باوا صاحب کو ہی ملزم کرنا ہے تو پھر دیانند کے پاس اس بات کا کیا جواب ہے جو اس نے اپنی پہلی ستیارتھ پرکاش میں بہت سے امور کو اپنے مذہب کی تعلیم قرار دیا اور جب چاروں طرف سے اعتراض اٹھے۔ اور جواب بن نہ پڑا تو یہ بہانہ بنایا کہ یہ میرا مذہب نہیں یہ کاتب نے آپ لکھ دیا ہوگا۔ اب کوئی سوچے کہ کاتب تو صرف ایک لفظ یا دو لفظ کو کم و بیش کر سکتا ہے۔ نہ یہ کہ کئی ورق کاتب اپنی طرف سے لکھے اور