چمکتےؔ ہوئے مشاہدہ بھی کئے اور درحقیقت یہ سب اسلام کے حقیقی اور روحانی حسن کا نتیجہ تھا کہ جس کی زبردست کششوں نے باوا صاحب جیسے صاف باطن رشی کو اس پاک دین کی طرف جھکا دیا۔ برخلاف اس کے جب باوا صاحب نے ویدوں کی تعلیم اور ان کے پیروؤں پر نظر ڈالی تو وہاں بالکل اس پاک تعلیم کے برخلاف پایا وہ ویدوں سے کوئی برکت حاصل کرنے سے بکلی نومید ہوگئے۔ اور صاف طور پر انہوں نے بار بار گواہی دی کہ وید روحانی برکتوں سے خالی ہیں چنانچہ ان گواہوں میں سے ایک یہ شعر بھی ہے۔ جس پر دیانند نے بہت ہی سیاپا کیا اور ناحق ایسے بزرگ کو گالیاں دی ہیں جس کی نظیر اس کے بزرگوں میں ایک بھی نہیں اور وہ شعر جس کے سننے سے دیانند جل گیا یہ ہے۔ ’’وید پڑھت برہما مرے چاروں وید کہانی‘‘ ’’سادھ کی مہما وید نجانی‘‘ یعنی برہما بھی ویدوں کو پڑھ کر مرگیا اور حیات جاودانی حاصل نہ کی۔ چاروں وید سراسر کہانی اور محض یاوہ گوئی ہے جن میں کچھ بھی ودیا نہیں۔ اور وہ اُستت اور مہما پرمیشر کی جو عارف بیان کیا کرتے ہیں۔ اور وہ خوبیاں ایشر کی جو سچوں کو معلوم ہوتی ہیں ویدوں کو ان کی کچھ بھی خبر نہیں۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ ایسے کلمات باوا صاحب کیوں منہ پر لائے تو اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ باوا صاحب نے وید کو اس کی واقعی رنگت میں دیکھ لیا تھا اور انہیں معلوم ہو چکا تھا کہ ویدوں میں بجز آفتاب پرستی اور عناصر پرستی اور ناپاک رسموں کے اور کچھ بھی نہیں۔ اور وہ خوب جانتے تھے کہ جو کچھ اس ملک میں اس قسم کی شرک پائی جاتی ہیں۔ ان تمام گندی نالیوں کا اصل مبدا وید ہی ہے۔ اور وہ حق گوئی کی راہ میں ایسے دلیر تھے کہ سچ کہنے کے وقت کسی سے نہیں ڈرتے تھے۔ اس لئے ایسے شعر اُن کے منہ سے نکل گئے۔ اور بلاشبہ یہ بات صحیح ہے کہ ان کو دیانند کی نسبت زیادہ اور وسیع تجربہ ویدوں کے بارے میں حاصل تھا۔ اور سچے گیان سے ان کا دل بھر گیا تھا کیونکہ دینی امور میں سچا اور پاک تجربہ اسی کو حاصل ہوتا ہے جو سچے دل سے خدا تعالیٰ کو ڈھونڈتا ہے اور ہریک پکش بات کا پلید چولہ اپنے پر سے اتار کر ایک پاک چولہ