کیؔ وہ تعظیم اور وہ ثنا ہے کہ جو اس کے افعال کی عظمت پر نگاہ کر کے اس کے لئے واجب ٹھہرتی ہے اور ایسا ہی وہ
پاک اور صاف صاف توحید ہے جس پر صحیفہ قدرت گواہی دے رہا ہے ان کے دل میں یہ بھی یقین ہوگیا تھا کہ قرآنی تعلیم ایسے احکام پر مشتمل ہے جن کا ماننا ایک نیک انسان بن جانے کو لازم پڑا ہوا
ہے مثلاً جو شخص شراب خواری سے جو شہوت رانی اور عیاشیوں کی جڑھ ہے رک جائے قماربازی سے دست بردار ہو اور عورت مرد کے ناجائز میل جول حتّٰیکہ ایک دوسرے پر نظر ڈالنے سے
کنارہ کش ہو اور حرام خوری اور رشوت اور سود خوری سے پرہیز کرے اور نا انصافی اور جھوٹ اور غرور اور اسراف اور دنیا پرستی اور خود غرضی اور حرام کاری اور ریاکاری سے دور رہے
اور عبادت اور محبت الٰہی میں سرگرم ہو اور اپنے دن رات کو ذکر الٰہی سے معمور رکھے اور صلہ رحم اور مروت اور ہمدردی بنی نوع اس کی عادت ہو اور توحید اور لا الٰہ الا اللّٰہ اس کا مذہب ہو
اور خدا تعالیٰ کو ہریک فیض کا مظہر جانے نہ کہ روحوں کو مع ان کی تمام قوتوں کے اپنے وجود کا آپ خدا سمجھے اور اس غیر مرئی اور غیب الغیب اور غیر محدود طاقتوں والے خدا پر ایمان لاوے
جس کے پکڑنے اور مصلوب کرنے کیلئے کسی دشمن کے ہاتھ لمبے نہیں ہو سکتے اور نیز زنا اور بے حیائی اور دیوثی سے مجتنب ہو اور پرہیزگاری اور جوان مردی کے اعلیٰ مراتب پر قائم ہو بلکہ
اس کے مذہب میں کسی ناجائز محل شہوت پر دیکھنا بھی حرام ہو کہ تا دل ناجائز خیالات میں مبتلا نہ ہو جائے اور آخرت کو دنیا پر مقدم رکھے اور حق اللہ اور حق العباد میں ایک ذرہ فتور نہ کرے
جیسا کہ یہ سب تعلیمیں قرآن میں موجود ہیں۔ تو اس میں کیا شک ہے کہ وہ ایک نیک اور موحد انسان بن جائے گا۔ مگر کیا کسی دوسرے مذہب کی کتاب نے التزام اور تکمیل سے ان تعلیموں کو لکھا ہے
ہرگز نہیں۔ پس یہ وہی بات تھی جو باوا صاحب کے حق پسند دل پر کھل گئی اور انہوں نے دیکھ لیا کہ کتاب اللہ صرف قرآن ہی ہے۔ اور باقی سب کتابیں تاریکی میں پڑی ہوئی ہیں۔ لہٰذا اسلام کی پاک
روحانیت ان کے دل میں گھر کر گئی۔ اور نہ صرف اسی قدر بلکہ انہوں نے اس کے نمونے بھی دیکھے اور اس پاک نبی سے آسمانی نور حاصل کرنے والے ستاروں کی طرح