کےؔ بھی پڑھ جاتے ہیں پرلے درجہ کے متکبر اور ریاکار اور خود بین اور نفسانی اغراض سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ اور نیز بباعث گم گشتہ طریق اور غبی ہونے کے نادان بھی پرلے سرے کے اس لئے اس نے باوا صاحب کے حالات کو اپنے نفس کے حالات پر قیاس کر کے بکواس کرنا شروع کر دیا۔ اور اپنے خبث مادہ کی وجہ سے سخت کلامی اور بدزبانی اور ٹھٹھے اور ہنسی کی طرف مائل ہوگیا۔ اس لئے ہریک محقق جو باوا صاحب سے محبت رکھتا ہے نہ صرف اپنی طرف سے بلکہ اسی نادان پنڈت کے اشتعال دہی کی وجہ سے یہ حق رکھتا ہے کہ سچے واقعات کے اظہار سے اس کی پردہ دری بھی کرے۔ اور صاحبو ہم اس بات کے کہنے سے ہرگز رک نہیں سکتے کہ جو حقیقی معرفت کا حصہ باوا صاحب کو ملا تھا اس سے یہ خشک دماغ پنڈت بکلی بے نصیب اور بے بہرہ تھا۔ ہریک کو یہ مان لینا ضروری ہے کہ باوا صاحب کو اس لطیف عقل میں سے عنایت ازلی نے حصہ دے دیا تھا۔ جس کے ذریعہ سے انسان روحانی عالم کی باریک راہوں کو دیکھ لیتا اور اس حق ذات کی محبت میں ترقی کرتا اور اپنے تئیں ہیچ اور ناچیز سمجھتا ہے مگر کیا اس عقل سے اس پنڈت کو بھی کچھ حصہ ملا تھا۔ ہرگز نہیں۔ اس کی کتابوں کے دیکھنے سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ نہایت ہی موٹی سمجھ کا آدمی اور باایں ہمہ اول درجہ کا متکبر بھی تھا۔ باوا نانک کی طرف جو تعلیمیں منسوب کی جاتی ہیں ان میں سے ٹھیک ٹھیک ان کی تعلیم وہی ہے جو توحید اور ترک دنیا پر مشتمل ہے اور جو مشرکانہ خیالات یا کہانیاں اور خلاف حق باتیں ہیں۔ وہ ان کی طرف ہرگز منسوب نہیں ہو سکتیں۔ ہم کو اقرار کرنا چاہئے کہ باوا صاحب نے اس سچی روشنی پھیلانے میں جس کے لئے ہم خدمت میں لگے ہوئے ہیں وہ مدد کی ہے کہ اگر ہم اس کا شکر نہ کریں تو بلاشبہ ناسپاس ٹھہریں گے۔ یہ بات ہمیں تخمیناً تیس برس کے عرصہ سے معلوم ہے کہ باوا صاحب الٰہی دین کے ایک پوشیدہ خادم تھے اور ان کے دل میں ایک سچا نور تھا جس کو انہوں نے نا اہلوں سے چھپا رکھا تھا۔ ان کے دل میں ان باتوں کا ایک گہرا یقین ہوگیا تھا کہ دنیا میں ایک اسلام ہی مذہب ہے جس میں خدائے واحد لاشریک