شریفوں کا کام نہیں کہ جھوٹے تو آپ ہوں اور سچے کو گالیاں دیںؔ یہ ہرگز نیک ذاتوں کا کام نہیں اور پھر تعجب کہ ہمیں غلط بیانی کا الزام تو لگایا مگر اپنے اشتہار میں کچھ بیان نہ کیا کہ وہ غلط بیانی کیا ہے اور کس شرتی کو ہم نے خلاف واقعہ لکھا اور کس عبارت کو ہم نے محرف کیا اور بڑھا دیا اور کیا گھٹا دیا بلکہ بالآخر اسی اشتہار میں اقرار کر دیا کہ شرم اور حیا اور حمیت کے برخلاف ہے۔ کیا کوئی شریف الفطرت اس بات پر راضی ہو سکتا ہے کہ اولاد کی خواہش سے یا لڑکیوں کی کثرت کے بعد لڑکا پیدا ہونے کی تمنا سے ایک اجنبی کو اپنے گھر میں آپ بلا لاوے اور اپنی عورت کو اس سے ہم بستر کراوے اور آپ الگ بیٹھا جوش شہوت کی حرکات دیکھتا رہے کیا اب بھی آپؔ لوگ اس تعلیم کو خدا تعالیٰ کی تعلیم کہیں گے؟ اے میرے پیارے ہموطنو! اس خدا سے ڈرو جو ہرگز ناپاکی کے راہوں کو پسند نہیں کرتا وہ ہرگز نہیں چاہتا کہ اس کے بندوں میں زنا پھیلے اور ّ*** اولاد پیدا ہو۔ ایسی بیٹے کی خواہش پر بھی ہزار *** ہے جس کی والدہ اپنا عزیز خاوند چھوڑ کر دوسرے کے آگے پڑتی ہے اور ُ تف اس اولاد پر جو حرام کاری کے ذریعہ سے حاصل کی جاتی ہے۔ عزیزو ذرا سوچو کہاں ہے تمہاری شرافت کہاں ہے تمہاری انسانی حمیت کہاں ہے تمہارا کانشنس۔ غیر کا نطفہ تمہارا بیٹا ہرگز نہیں ہوگا۔ اور ناحق بے حیائی سے اپنی عورتوں کی پاک دامنی کو گندگی میں ڈال دو گے۔ دنیا میں کنجر سب سے زیادہ بے شرم اور فاسق قوم ہے مگر وہ بھی اپنی بہو سے حرام کاری یہ ایمانی اقرار ہے کہ ہریک ایسا شخص جو مقابلہ کرنے کے لئے علمی لیاقت رکھتا ہو یعنی اگر وہ انگریزی کا حامی ہے تو انگریزی دان ہو اور اگر سنسکرت کا حامی ہے توسنسکرت دان ہو اس کی درخواست آنے کے وقت نقد پانچ ہزار روپیہ ایسی جگہ جمع کرا دیا جائے گا جو اس کی مرضی کے مطابق اور قرین انصاف ہو غرض یہ اس کا حق ہوگا کہ ہر طرح سے پوری تسلی کر لے ہاں اس پر یہ لازم ہوگا کہ ہمارا تحریری اقرارنامہ لے کر اپنی طرف سے بھی یہ اقرار نامہ لکھ دے کہ اگر وہ ایک مدت مقررہ تک جس کا تصفیہ بعد میں ہو جائے گا مقابلہ پر کچھ نہ لکھے یا ایسا لکھے جو منصفوں کی نظر میں ہیچ ہو تو اس مدت تک وہ تجارت کے کام کا روپیہ جو اس کے انتظار پر بند رہے گا اس کا مناسب ہرجانہ اس کو دینا ہوگا اور یہ روپیہ منصفوں کی ڈگری دینے سے اس شخص کو مل جائے گا جو اپنی زبان کو فضائل خاصہ غالبہ کی رو سے اُمّ الالسنہ ثابت کرے اور اس کا اختیار ہوگا کہ باضابطہ رسید کے ذریعہؔ سے وہ تمام روپیہ منصفوں کے پاس ہی جمع کرا دیوے اور ہم اس بات کو بدل قبول کرتے ہیں کہ اس فیصلہ