دلؔ محض بناوٹی رسموں اور خود تراشیدہ ریتوں پر راضی نہیں ہوتا تھا۔ اور اس مصفّٰی پانی کے وہ خواہشمند تھے کہ جو
حقیقت کے چشمہ سے بہتا اور روحانیت کے رنگ سے رنگین ہوتا ہے اس لئے کبھی وہ ان بیراگیوں اور جوگیوں اور سنیاسیوں پر راضی نہ ہوئے۔ جو محض رسم پرستی اور ایک باطل قانون کی پیروی
سے بیہودہ تخیلات میں دماغ سوزی کر کے اپنی اوقات خراب کیا کرتے تھے۔ باوا صاحب بہت زور لگاتے تھے کہ ہندوؤں میں کوئی روحانی حرکت پیدا ہو اور وہ بیہودہ رسموں اور باطل اعتقادوں سے
دستکش ہو جائیں۔ اور اسی لئے وہ ہمیشہ برہمنوں کے منہ سے سخت سست باتیں سنتے اور برداشت کرتے تھے۔ مگر افسوس کہ اس سخت دل قوم نے ایک ذرہ سی حرکت بھی نہ کی اور باوا صاحب
ہندوؤں کی رفاقت سے اس قدر نا امید ہوگئے کہ ان کو اپنے معمولی سفروں کے لئے بھی دو ایسے ہندو خادم نہ مل سکے کہ ان کے خیالات کے موافق ہوں *۔
پس یہ مقام بھی سوچنے کے لائق ہے
کہ کیوں ہندوؤں نے باوا نانک صاحب سے اور باوانانک صاحب نے ہندوؤں سے انس نہ کیا اور تمام عمر مسلمانوں سے ہی مانوس رہے اور اسلامی ملکوں کی طرف ہی سفر کرتے رہے۔ کیا اس سے یہ
نتیجہ نہیں نکلتا کہ باوا صاحب ہندوؤں سے قطع تعلق کر چکے تھے۔ کیا ہندوؤں میں اس کی کوئی نظیر مل سکتی ہے کہ کوئی شخص ہندو ہو کر اپنے تمام تعلقات مسلمانوں سے قائم کرلے۔
یہ کہنا
بھی دشنام دہی سے کچھ کم نہیں کہ باوانانک صاحب نے اسلامی سلطنت کا عروج دیکھ کر مسلمانوں کے ساتھ مداہنہ کے طور پر میل ملاپ کر لیا تھا۔ کیونکہ مداہنہ ایک نفاق کی قسم ہے۔ اور نفاق نیک
انسانوں کا کام نہیں۔ مگر باوا صاحب کی یک رنگی ایسے دلوں پر واضح ہے جس سے ایک فرد بھی انکار نہیں کر سکتا۔ باوا صاحب ایک سیدھے سادے اور صاف دل آدمی تھے۔ اور ایک سچے مسلمان کی
طرح ان کے عقائد تھے۔ وید کی تعلیم کی طرح ان کا یہ مذہب نہ تھا کہ تمام روحیں اور اجسام خودبخود چلی آتی ہیں۔ بلکہ انہوں نے اس عقیدہ کا بہت زور سے رد کیا ہے