فقر اوؔ ر زہد کے شادی بھی کی تا لوگوں پر ثابت کریں کہ وید کی تعلیم کا یہ مسئلہ ٹھیک نہیں کہ اعلیٰ مرتبہ کا انسان وہی ہے جو برہم چرج یعنی رہبانیت اختیار کرے باوا صاحب نیوگ*کے مسئلہ کے بھی سخت مخالف تھے۔ اور وہ ایسے انسانوں کو جو اپنے جیتے جی اپنی منکوحہ پاک دامن کو عین نکاح کی حالت میں اولاد کے لئے یا شہوت فرو کرانے کیلئے دوسروں سے ہم بستر کراویں سخت بے حیا اور د ّ یوث اور ناپاک طبع سمجھتے تھے۔ چنانچہ ان کے ُ پر برکت اشعار ان باتوں پر شہادت دے رہے ہیں جن کو ہم انشاء اللہ تعالیٰ کسی دوسرے رسالہ میں مفصل تحریر کریں گے۔ اور اس بارے میں تمام عمل ان کا اسلامی تعلیم کے موافق ہے اور یہ دوسری دلیل اس بات پر ہے کہ وہ وید کی تعلیموں سے سخت بیزار تھے۔ اور اسی وجہ سے وہ برہمنوں کے ساتھ ہمیشہ مباحثوں اور مناقشوں میں مصروف رہتے تھے۔ اور کچھ دیانند ہی نے ان کی نسبت بدزبانی نہیں کی بلکہ اس زمانہ میں بھی اکثر نالائق پنڈت ان کے دشمن ہوگئے تھے۔ اور اگر اس زمانہ میں ایک گروہ کثیر باوا صاحب کے ساتھ بھی ہم خیال ہو جاتا تو کچھ شک نہیں کہ ان نزاعوں کا ایک بڑے کشت و خون تک انجام ہوتا۔ اور گو باوا صاحب نہایت شدت کے ساتھ ایسے مباحثوں میں مصروف تھے۔ اور وید کی رسموں ہوم وغیرہ کو نہایت ناچیز خیال کرتے تھے مگر تاہم چونکہ وہ اکیلے تھے لہٰذا شور و شر کے وقت جاہلوں سے کنارہ کرتے تھے۔ اور یہ امر حق اور واقعی ہے کہ ان کا دل اس الٰہی محبت سے رنگین ہوگیا تھا جو محض فضل سے ملتی ہے نہ اپنے کسب سے۔ ان کو وہ تمام باتیں بری معلوم ہوتی تھیں جو حق اور حقیقت کے برخلاف ہوں۔ ان کا وید کی خاص تعلیموں میں سے ایک نیوگ بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر کسی ہندو کے گھر میں اولاد نہ ہو اور کسی وجہ سے مرد ناقابل اولاد ہو مثلاً اس کی منی پتلی ہو۔ یا منی میں کیڑے نہ ہوں یا وہ کیڑے کمزور ہوں یا انزال ہی نہ ہوتا ہو یا کسی اور طبی وجہ سے مرد عقیمہ کی طرح ہو یا ہیجڑہ ہو یا لڑکیاں ہی پیدا ہوتی ہوں تو ان سب صورتوں میں وید کی یہ تعلیم ہے کہ مرد اولاد کی خواہش سے اپنی عورت کو دوسرے سے ہم بستر کراوے اور اگر کسی جگہ مرد نوکر ہو اور تین برس تک گھر میں نہ آوے گو خرچ بھیجتا ہو۔ اور خط بھی بھیجتا ہو۔ تو اس صورت میں بھی اگر عورت کو شہوت غلبہ کرے تو کچھ ضرور نہیں کہ وہ اپنے خاوند کے پاس جاوے بلکہ اپنے اختیار سے کسی دوسرے سے ہم بستر ہو جاوے۔ آریہ دھرم میں اس کا سب ثبوت موجود ہے۔ منہ