اور اؔ ن کے گرنتھ کو غور سے پڑھنے والے اس بات کو جانتے ہیں کہ ان کا یہ مذہب ہرگز نہیں تھا جو آج کل آریہ لوگ پیش
کر رہے ہیں۔ یعنی یہ کہ کل جیو قدیم اور خودبخود چلے آتے ہیں ان کا کوئی خالق نہیں بلکہ باوا صاحب اپنے گرنتھ کے کئی مقام میں بتلا چکے ہیں کہ جو آپ ہی آپ بغیر کسی موجد کی ایجاد کے
موجود ہے وہ صرف پرمیشر ہے اور دوسری سب چیزیں اس کی پیدا کی ہوئی ہیں۔ ایک چیز بھی ایسی نہیں جو اس نے پیدا نہیں کی اس سے صاف کھل گیا کہ باوا صاحب اپنی سچی معرفت کے زور سے
ہندوؤں کے ویدوں سے دست بردار ہوگئے تھے۔ اور خدا تعالیٰ کی طرف سے باوا صاحب کو وہ روشنی ملی تھی کہ اگر ویدوں کے رشیوں کی نسبت ثابت کرنا چاہیں تو میں سچ سچ کہتا ہوں کہ یہ امر
غیر ممکن ہوگا۔ جب ہم سوچتے ہیں کہ باوا صاحب کے گرنتھ میں کیسی کیسی گیان کی باتیں بھری ہوئی ہیں۔ اور کس قدر باریک معارف کی طرف اشارے پائے جاتے ہیں تو اس کے مقابل پر دیانند کی
کتابیں ایک مکروہ بھوتنے کی طرح نظر آتی ہیں۔ تو پھر ساتھ ہی اس بات کے تصور سے رونا آتا ہے کہ یہ نالائق ہندو وہی شخص ہے۔ جس نے اپنے پنڈت ہونے کی شیخی مار کر باوا صاحب کو نادان اور
گنوار کے لفظ سے یاد کیا ہے۔ کیا کوئی یقین کر سکتا ہے کہ جس شخص کے منہ سے ایسے گیان اور معارف کی باتیں نکلیں وہ گنوار یا نادان ہے۔ یہ کیسی ناپاکی طینت ہے کہ پاک دل لوگوں کو جھٹ
زبان پھاڑ کر برا کہہ دیا جائے۔ آریہ اس بات کو یاد رکھیں تو اچھا ہو کہ دیانند صرف ایک جسمانی خیالات کا آدمی تھا۔ اور ان کتابوں کی تاریکی میں مبتلا تھا جن میں ہر طرح کی برائیاں ہیں۔ اور ایک
ایسے مذہب کی خاطر جس کی آج تک کوئی خوبی بجز نیوگ اور مخلوق پرستی کے ثابت نہیں ہوئی۔ ناحق بزرگوں اور مہاتما لوگوں کی نندیا کر کے گذر گیا۔ لہٰذا کوئی نیک طینت انسان اس کو اچھا نہیں
کہتا۔ لیکن باوانانک صاحب تو وہ شخص تھے جن پر اس وقت بیس لاکھ کے قریب انسان جان فدا کر رہے ہیں *۔ یہ بات بالکل سچی ہے کہ باوا صاحب کی ذات میں اس قدر خوبیاں اور نیکیاں جمع تھیں کہ
دیانند کی