باواؔ نانک صاحب کے کمالات
اور ان کی
ہتک عزت کی غرض سے دیانند کی خرافات
پنجاب میں غالباً ایسا شخص
کوئی بھی نہیں ہوگا جو باوا نانک صاحب کے نام سے واقف نہ ہو یا ان کی خوبیوں سے بے خبر ہو۔ اس لئے کچھ بھی ضرورت نہیں کہ ہم ان کی سوانح اور طریق زندگی کی نسبت کچھ مفصل تحریر
کریں۔ لہٰذا صرف اس قدر لکھنا کافی ہے کہ باوا صاحب موصوف ہندوؤں کے ایک شریف خاندان میں سے تھے۔ سن نو سو ۹۰۰ ہجری کے اخیر میں پیدا ہوئے۔ اور چونکہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اخلاص
رکھتے تھے اس لئے بہت جلد زہد اور پرہیزگاری اور ترک دنیا میں شہرت پاگئے اور ایسی قبولیت کے مرتبہ پر پہنچ گئے کہ درحقیقت ہندوؤں کے تمام گذشتہ اکابر اور کل رشیوں رکھیوں اور دیوتوں
میں سے ایک شخص بھی ایسا پیش کرنا مشکل ہے۔ جو ان کی نظیر ثابت ہو۔ ہمارا انصاف ہمیں اس بات کے لئے مجبور کرتا ہے کہ ہم اقرار کریں کہ بیشک باوا نانک صاحب ان مقبول بندوں میں سے تھے۔
جن کو خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے نور کی طرف کھینچا ہے۔ اس میں کچھ بھی شبہ نہیں۔ کہ ایک سچی تبدیلی خدا تعالیٰ نے ان میں پیدا کر دی تھی۔ اور حق اور راستی کی طرف ان کا دل کھینچا گیا تھا۔
ان کے وقت میں بہت سے جاہل اور شوریدہ مغز ہندو موجود تھے۔ جو اپنے تئیں جوگی یا بیراگی یا سنیاسی وغیرہ ناموں سے موسوم کرتے تھے۔ اور چھپی بدکاریوں کے سہارے سے رہبانیت کا جھنڈا
بہت اونچا کیا ہوا تھا۔ سو باوا صاحب نے اپنی قوم کو یہ بھی اچھا نمونہ دیا کہ انہوں نے جوگی یا بیراگی یا سنیاسی کہلانے سے نفرت کی۔ وہ اس طور کے برہم چرج سے بکلی بیزار تھے۔ جس میں
خداداد قوتوں کو ناحق ضائع کر کے الٰہی قانون کو توڑ دیا جائے۔ اسی غرض سے انہوں نے باوجود اپنے کمال