گفتؔ ‘ ہرجانی ز دستش شد پدید
قادر است او جسم و جان را آفرید
فکر کن درگفتہ این عارفان
رو ‘ چہ نالی ‘
بہر وید آریان
بود نانک ‘ عارف و مرد خدا
راز ہائے معرفت را رہ کشا
وید زان راہ معارف دور تر
’’سادھ کی مہما نجانے‘‘ بے ہنر
این نصیحت ‘ گر ز نانک بشنوی
در دو
عالم ‘ از شقاوت ہا رہی
او نہ از خود گفت ‘ این گفتار را
گوش او بشنید این اسرار را
وید را ‘ از نور حق مہجور یافت
از خدا ترسید و ‘ راہ نور یافت
اے برادر ‘ ہم تو سوئے
او بیا
دل چہ بندی ‘ در جہان بے وفا
اما بعد واضح ہو کہ ہم نے عام فائدہ کے لئے یہ رسالہ جس کے مقاصد کا ذیل میں بیان ہے تالیف کیا ہے اور ہماری غرض اس تالیف سے بجز اس کے اور
کچھ نہیں کہ آریہ لوگ جو آج کل جلتے ہوئے تنور میں پڑے ہوئے ہیں اور زبان کی ناپاکی اور بیباکی میں اس قدر ترقی کر گئے ہیں کہ کسی وقت بھی ان کے دلوں کو خدا تعالیٰ کا خوف نہیں پکڑتا۔ وہ
اس حقّانی انسان کی راست گفتاری اور راست روی کو غور سے دیکھیں۔ جس کا اس رسالہ میں ذکر ہے اور اگر ہو سکے تو اس کے نقش قدم پر چلیں اور وہ انسان وہی ایک بزرگ دیوتا ہے جو بابر کے
زمانہ میں پیدا ہو کر خدا تعالیٰ کے دین کی صداقت کا ایک گواہ بن گیا یہ انسان جس کا ابھی ہم ذکر کریں گے عوام ہندوؤں میں سے نہیں ہے بلکہ ایک ایسا شخص ہے جو لاکھوں آریوں نے اس کی نیک
بختی اور راست گوئی پر مہر کر دی ہے۔ اور وہ ایک اول درجہ کے ان پیشواؤں میں سے شمار کیا گیا ہے جو ہندوؤں میں گذرے ہیں۔ اور غالباً سترہ۱۷ لاکھ کے قریب پنجاب میں اس کے فدا شدہ چیلے
موجود ہیں۔ اور وہ وہی مظلوم بزرگ ہے جس کی نسبت ناحق پنڈت دیانند آریوں کے پیشرو نے سخت الفاظ استعمال کئے ہیں۔ اور ہم چاہتے ہیں کہ اس کی سوانح کے ضمن میں دیانند کے بے جا
اعتراضوں اور سب و شتم کا جواب بھی دے دیں اور وہ یہ ہے۔