سے قانون پاس کراویں کہ آئندہ مناظرات و مجادلات میں بغرض رفع فتنہ و فساد عام آزادی اور بے قیدی کو محدود کر دیا
جاوے اور ہریک قوم کے لوگ اعتراض اور نکتہ چینی کے وقت ہمیشہ دو باتوں کے پابند رہیں۔
)۱( یہ کہ ہریک فریق جو کسی دوسرے فریق پر کوئی اعتراض کرے تو صرف اس صورت میں
اعتراض کرنے کے وقت نیک نیت سمجھا جائے کہ جب اعتراض میں وہ باتیں نہ پائی جائیں جو خود اس کے مسلم عقیدہ میں پائی جاتی ہیں یعنی ایسا اعتراض نہ ہو جو وہ اس کے عقیدہ پر بھی وارد ہوتا
ہو اور وہ بھی اس سے ایسا ملزم ہو سکتا ہو جیسا کہ اس کا مخالف اور اگر کوئی اس قاعدہ سے تجاوز کرے اور وہ تجاوز ثابت ہو جاوے تو بغیر حاجت کسی دوسری تحقیقات کے یہ سمجھا جاوے کہ
اس نے محض بدنیتی سے ایک مذہبی امر میں اپنے مخالف کا دل دکھانے کے لئے یہ حرکت کی۔
)۲( یہ کہ ہریک معترض ایسے اعتراض کرنے کا ہرگز مجاز نہ ہو کہ جو ان کتب مشتہرہ کے
مخالف ہو۔ جن کو کسی فریق نے حصر کے طوؔ ر پر اپنی مسلّمہ کتابیں قرار دے کر ان کی نسبت اشتہار شائع کرایا ہے اور اگر کوئی شخص ایسا کرے تو قانوناً یہ قرار دیا جاوے کہ اس نے ایک ایسا
امر کیا جو نیک نیتی کے برخلاف ہے اور جو شخص ان دونوں تجاوزوں میں سے کوئی ایک تجاوز کر کے یا دونوں کر کے کسی قسم کی صریح ہجو یا اشارہ یا کنایہ سے کسی فریق کا دل دکھاوے تو وہ
دفعہ ۲۹۸ تعزیرات کا مجرم قرار دے کر اس سزا کا مستوجب سمجھا جائے جو قانون کی حد تک ہے۔
یہ قانون ہے جس کا پاس کرانا ضروری ہے۔ سو اے بزرگو اور دین اسلام کے غمخوارو برائے
خدا اس تحریر پر غور کر کے اس درخواست کو اپنے دستخطوں سے مزین کرو جو اس قانون کے پاس کرنے کے لئے لکھی گئی ہے تا فساد انگیز جھگڑے کم ہو جائیں اور گورنمنٹ کو آرام ملے۔ اور
ملک میں صلح کاری اور امن پیدا ہو اور ملک کے باشندوں کے کینے ترقی کرنے سے روکے جائیں بھائیو اس قانون کے پاس ہونے میں بہت ہی برکتیں ہیں اور سچے دین کو اس سے بہت ہی مدد ملتی ہے
اور مفسدوں اور افترا پردازوں کے منہ بند ہو جاتے ہیں۔ گورنمنٹ کے کسی منشاء کے