مخالف یہ کارروائی نہیں بلکہ ہماری دانا گورنمنٹ خود ایسی باتوں کو ہمیشہ سوچتی ہے جس سے اس ملک کے فتنے اور فساد کم ہوں اور لوگ ایک دل ہوکر گورنمنٹ کی خدمت میں مشغول رہیں اور نیز یہ وہ مبارک طریق ہے جن سے آئندہ بے جا حملہ کرنے والے رک جائیں گے اور ہریک جاہل متعصب مناظرہ اور مجادلہ کے لئے ُ جرأت نہیں کر سکے گا اور یہ امر تمام ان لوگوں کے لئے مفید ہے جو یاوہ لوگوں کا کسی تدبیر سے منہ بند کرنا چاہتے ہیں۔ اور اگر کسی صاحب نے ایسے مبارک محضر پر دستخط نہ کئے جس سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی عزت مفتری لوگوں کے افتراؤں سے بچ جاتی ہے اور اسلام بہت سے کمینہ اور سراسر دروغ حملوں سے امن میں آجاتا ہے تو اس کا اسلام نہایت بودا اور تاریکی میں پڑا ہوا ثابت ہوگا اور ہم عزم بالجزم رکھتے ہیں کہ جیسا کہ اس موقع پر ہم دینی غم خواروں کا باعزت نام مخلصانہ دعائے خیر کے ساتھ نہایت شوق سے شائع کریں گے تا ان کی مردی اور سعادت عامہ خلائق پر ظاہر ہو ایسا ہی ہم ایک ُ پر درد تقریر کے ساتھ ان بخیل اور پست فطرت لوگوں کے نام بھی اپنے رسالہ میں شائع کر دیں گے جنہوں نے ہمارے سید و مولیٰ محمد مصطفیٰ خاتم الانبیاء فخر الاصفیاء کی حمایت عزت کے لئے کچھ بھی غم خواری اور حمیت ظاہر نہ کی۔ بھائیو کیا یہ مناسب ہے کہ آپ لوگ تو عزت کی کرسیوں پر بیٹھیں اور بڑے بڑے القاب پائیں اور ہمارے پیارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو ہریک طرف سے گالیاں دی جائیں اور تحریر اور تقریر میں سراسر افتراء سے نہایت بے عزتی اور توہین کی جائے اور آپ لوگ ایک ادنیٰ تدبیر کرنے سے بھی دریغ کریں۔ نہیں ہرگز نہیں۔ شریف اور نجیب لوگ ہرگز دریغ نہیں کریں گے اور جو خبیث النفس دریغ کرے گا وہ مسلمان ہی نہیں۔ مبادا دل آن فرو مایہ شاد کہ از بہر دنیا د ہددیں بباد راقم خاکسار خادم دین مصطفی غلام احمد قادیانی ۲۲ ستمبر ۱۸۹۵ء