رہ سکتا۔ اور اگر ایسا ہونا فرض بھی کرلیں تو پھر اسلام جیسا کوئی مذہب مصیبت زدہ نہیں ہوگا کیونکہ جس حالت میں پادری
صاحبان و آریہ صاحبان وغیرہ پورے زوروشور سے اسلام پر حملہ کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کو نابود کر دیں اور ہریک رنگ سے کیا علم طبعی کے نام سے اور کیا علم طب اور تشریح کے
بہانہ سے اور کیا علم ہیئت کے پردہ میں انواع اقسام کے دھوکے لوگوں کو دے رہے ہیں اور ٹھٹھے اور ہنسی اور تحقیر کو انتہا تک پہنچا دیا ہے۔ پھر اگر ہمارے معزز بھائیوں کی طرف سے یہی تدبیر
ہے کہ چپ رہو اور سنے جاؤ تو یہ خاموشی مخالفوں کی یک طرفہ ڈگری کا موجب ہوگی اور نعوذ باللہ ہماری خاموشی ثابت کر دؔ ے گی کہ ہریک الزام ان کا سچا ہے اور اگر ہم الزامی جواب دیں
چنانچہ کئی سال سے دئیے جاتے ہیں تو کوئی ان کی طرف متوجہ نہیں ہوتا اور ہمارا وقت برباد جاتا ہے اور بار بار وہی باتیں اور وہی بہتان ہتک آمیز الفاظ کے ساتھ سناتے ہیں جو لوگ حیا اور شرم کو
چھوڑ دیں ان کا منہ بجز قانون کے اور کون بند کرے۔ اور ہم اپنے بھائیوں کے صوابدید سے کل مناظرات اور مباحثات اور تحریر اور تقریر سے دست بردار ہو سکتے ہیں اور چپ رہ سکتے ہیں مگر کیا
ہمارے معزز بھائی ذمہ دار ہو سکتے ہیں کہ مخالفانہ حملہ کرنے سے ہندوستان کے تمام پادریوں اور آریوں اور برہموؤں کو بھی چپ کرا دیں گے اور اگر نہیں کرا سکتے اور ان کی گالیوں اور سب و
شتم کی کوئی اور تدبیر ان کے ہاتھ میں نہیں تو پھر یہ بات کیوں حرام ہے کہ ہم اپنی محسن گورنمنٹ سے اس بارہ میں مدد لیں اور ان آئندہ خطرات سے اپنی قوم اور نیز دوسری قوموں کو بھی بچا لیں
جو ایسے بے قیدی کے مناظرات میں ضرور ی الوجود ہیں۔
سو بھائیو یہ تدبیر عمدہ نہیں ہے کہ ہر روز ہم گالیاں سنیں اور روا رکھیں کہ ہندوؤں کے لڑکے بازاروں میں بیٹھ کر اور عیسائیوں کی
جماعتیں ہریک کوچہ گلی میں ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم کو گندی گالیاں نکالیں اور آئے دن ُ پر توہین کتابیں شائع کریں۔ بلکہ اس وقت ضروری تدبیر یہ ہے کہ ایسے لوگوں کا منہ بند کر نے کے
لئے سرکاری قانون سے مدد لیں۔ اور اس درخواست کے موافق جو گورنمنٹ کی توجہ کے لئے علیحدہ لکھی گئی ہے اس مضمون کا گورنمنٹ عالیہ