ایمان لائے ہیں جن کا ذکر قرآن میں ہے اور یہ بھی ہمارا عقیدہ ہے کہ ہریک قوم میں کوئی نہ کوئی مصلح گذرا ہے اور ہمیں یہ
بھی تعلیم دی گئی ہے کہ ہم پورے علم کے بغیر کسی کی نسبت کوئی رائے ظاہر نہ کریں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۱ * سو یہ پاک عقائد ہمیں بے جا بدزبانیوں اور متعصبانہ نکتہ چینیوں سے
محفوظ رکھتے ہیں مگر ہمارے مخالف چونکہ تقویٰ کی راہوں سے بالکل دور اور بے قید اور خلیع الرسن ہیں اور قرآن کریم جو سب سے پیچھے آیا ان کو طبعاً برا معلوم ہوتا ہے لہٰذا وہ جلد فحش گوئی
اور بدزبانی اور توہین کی طرف مائل ہو جاتے ہیں اور سچی باتوں کے مقابل پر افتراؤں سے کام لیتے ہیں چنانچہ اس تیس سال کے عرصہ میں ہمارے مخالفوں نے اس قدر فحش گالیاں جناب رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی کتابوں میں دی ہیں اور اس قدر افترا اسلامی تعلیم پر کئے ہیں کہ میں یہ دعویٰ سے کہتا ہوں کہ آپ لوگ تیرہ سو گذشتہ سالوں میں یعنی اسلام کے ابتدائی زمانہ سے آج تک
اس کی نظیر نہیں پاؤ گے اور اسی پر بس نہیں بلکہ یہ ناجائز طریق ترقی پر ہے اس لئے ہریک ایسے سچے مسلمان کا فرض ہے کہ جو درحقیقت اپنے تئیں مسلمان سمجھتا ہے کہ ایسے موقعہ پر بے
غیرتوں اور بے ایمانوں کے رنگ میں بیٹھا نہ رہے بلکہ جیسا کہ اپنی حفظ عزت کے لئے کوشش کرتا ہے اور جب عزت برباد ہونے کا کوئی موقعہ پیش آوے تو جہاں تک طاقت وفا کرتی اور بس چل
سکتا ہے اپنی آبرو کے بچاؤ کے لئے کوئی تدبیر باقی نہیں چھوڑتا۔ بلکہ ہزارہا روپیہ پانی کی طرح بہا دیتا ہے ایسا ہی شریف اور سچے مسلمانوں کے لئے بھی زیبا ہے کہ اس پیارے رسول کی عزت
کے لئے بھی جس کی شفاعت کی امید رکھتے ہیں کوشش کریں اور ایمانی نمونہ دکھلانے سے نامراد نہ جائیں۔
شاید بعض صاحبوں کی یہ رائے ہو کہ کیا ضرور ہے کہ اسلام کی طرف سے مذہبی
تالیفات ہوں اور کیوں اس طریق کو اختیار نہ کیا جائے کہ مخالفوں کی تحریرات کا جواب ہی نہ دیں۔ اس کے جواب میں عرض کیا جاتا ہے کہ اوّل تو کوئی مذہب بغیر دعوت اور امر معروف اور نہی
منکر کے قائم نہیں
* نوٹ۔ یعنی جس بات کا تجھ کو یقینی علم نہیں دیا گیا۔ اس بات کا پیروکار مت بن اور یاد رکھ کہ کان اور آنکھ اور دل جس قدر اعضاء ہیں ان سب اعضاء سے بازپرس ہوگی۔
منہ