ان کا ہرگز ممکن نہیں کسی خاص قوم کے ساتھ جو شخص مناظرہ کرتا ہے اس کو ایسی حاجتیں کہاں پڑتی ہیں کہ جن امور کو اس قوم نے تسلیم کیا ہوا ہے ان کو بھی اپنی عمیق اور مستحکم تحقیقات سے ثابت کرے بلکہ خاص مباحثات میں اکثر الزامی جوابات سے کام نکالا جاتا ہے اور دلائل معقولہ کی طرف نہایت ہی کم توجہ ہوتی ہے اور خاص بحثوں کا کچھ مقتضاہی ایسا ہوتا ہے جو فلسفی طور پر تحقیقات کرنے کی حاجت نہیں پڑتی اور پوری دلائل کا تو ذکر ہی کیا ہے بستم حصہ دلائل عقلیہ کا بھی اندراج نہیں پاتا مثلاً جب ہم ایسے شخص سے بحث کرتے ہیں جو وجود صانع عالم کا قائل ہے الہام کا مقر ہے خالقیت باری تعالیٰ کو مانتا ہے تو پھر ہم کو کیا ضرور ہوگا جو دلائل عقلیہ سے اس کے روبرو اثبات وجود صانع کریں یا ضرورت الہام کی وجوہ دکھلاویں یا خالقیت باری تعالیٰ پر دلائل لکھیں بلکہ بالکل بیہودہ ہوگا کہ جس بات کا کچھ تنازع ہی نہیں اس کا جھگڑا لے بیٹھیں مگر جس شخص کو مختلف عقائد مختلف عندیات مختلف عذرات مختلف شبہات کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے اس کی تحقیقاتوں میں کسی قسم کی فروگذاشت باقی نہیں رہتی۔

علاوہ اس کے جو خاص قوم کے مقابلہ پر کچھ لکھا جاتا ہے وہ اکثر اس قسم کی دلائل ہوتی ہیں جو دوسری قوم پر حجت نہیں ہوسکتیں مثلاً جب ہم بائبل شریف سے چند پیشین گوئی نکال کر صدقِ نبوت حضرت خاتم انبیاءصلی اللہ علیہ وسلم بذریعہ ان کے ثابت کریں تو گو ہم اُس ثبوت سے عیسائیوں اور یہودیوں کو ملزم کردیں مگر جب ہم وہ ثبوت کسی ہندو یا مجوسی یا فلسفی یا برہمو سماجی کے روبرو پیش کریں گے تو وہ یہی کہے گا کہ جس حالت میں مَیں ان کتابوں کو ہی نہیں مانتا تو پھر ایسا ثبوت جو انہیں سے لیا گیا ہے کیونکر مان لوں۔ اسی طرح جو بات مفید مطلب ہم وید سے نکال کر عیسائیوں کے سامنے پیش کریں گے تو وہ بھی یہی جواب دیں گے پس بہرحال ایسی کتاب کی اشد ضرورت تھی کہ جو ہر ایک فرقہ کے مقابلہ پر سچائی اور حقیت اسلام کی دلائل عقلیہ سے ثابت کرے کہ جن کے ماننے سے کسی انسان کو چارہ نہیں۔ سو الحمدللہ کہ ان تمام مقاصد کے پورا کرنے کے لئے یہ کتاب طیار ہوئی دوسری اس کتاب میں یہ بھی خوبی ہے جو اس میں معاندین کے بےجا