دوم۔ یہ امر بھی قابل گزارش ہے کہ اگر کوئی صاحب برطبق شرائط مندرجہ اشتہار کے جواب اس کتاب کا لکھنا چاہیں تو ان پر لازم ہوگا کہ جیسا کہ اشتہار میں قرار پاچکا ہے دونوں طور پر جواب تحریر فرماویں۔ یعنے بغرض مقابلہ دلائل فرقان مجید کے اپنی کتاب کی دلائل بھی پیش کریں اور ہماری دلائل کو بھی توڑ کر دکھلاویں۔ اور اگر اپنی کتاب کی دلائل بالمقابل پیش نہیں کریں گے اور صرف ہماری دلائل کی جرح قدح کی طرف متوجہ ہوں گے۔ تو اس سے یہ سمجھا جائے گا کہ وہ اپنی کتاب کی دلائل حقیت کے پیش کرنے سے بکلی عاجز ہیں۔ اور یہ بات واضح رہے کہ ہم بدل خواہشمند ہیں کہ اگر کسی صاحب کو اس بات میں ہم سے اتفاق رائے نہ ہو۔ جو فرقانِ مجید حقیقت میں خدا کی کتاب اور سب الٰہی کتابوں سے افضل اور اعلیٰ ہے اور اپنی حقانیت کے ثبوت میں بے مثل و مانند ہے۔ تو وہ اپنے اِس خیال کی تائید میں ضرور کچھ قلم زنی کریں اور ہم سچ سچ کہتے ہیں جو ہم ان کی اس تکلیف کشی سے نہایت ہی ممنون ہوں گے۔ کیونکہ ہم ہر چند سوچتے ہیں کہ ہم کیونکر عامہ خلائق پر یہ بات ظاہر کردیں کہ جو جو فضائل اور خوبیاں قرآن مجید کو حاصل ہیں یا جن جن دلائل اور براہین قاطعہ سے قرآنِ شریف کا کلامِ الٰہی ہونا ثابت ہے وہ فضیلتیں اور وہ ثبوت دوسری کتابوں کے لئے ہرگز حاصل نہیں۔ تو بعد بہت سی سوچ کے ہم کو اِس سے بہتر اور کوئی تدبیر معلوم نہیں ہوتی کہ کوئی صاحب ان وجوہات اور ان ثبوتوں کو جو ہم نے قرآن مجید کی حقیت اور افضلیت پر لکھی ہیں اپنی کتاب کی نسبت دعویٰ کرکے کوئی رسالہ شائع کرے۔ اور اگر ایسا ہوا اور خدا کرے کہ ایسا ہی ہو تو پھر آفتابِ صداقت اور بزرگی قرآن شریف کا ہریک ضعیف البصر پر بھی ظاہر ہوجائے گا اور آئندہ کوئی سادہ لوح مخالفین کے بہکانے میں نہیں آوے گا۔ اور اگر اس کتاب کے ردّ لکھنے والا کوئی ایسا شخص ہو جو کسی کتاب الہامی کا پابند نہیں جیسے برہمو سماج والے ہیں۔ تو اس پر صرف یہی واجب ہوگا جو ہماری سب دلائل کو نمبروار توڑ کر دکھلاوے اور اپنے مخالفانہ خیالات کو بمقابلہ ہمارے عقائد کے