عقلی دلائل سے ثابت کرکے دکھلاوے۔ پس اگر کوئی ایسا شخص بھی اُٹھا تو اس کی عبرت انگیز تحریرات سے بھی لوگوں کو بڑا فائدہ ہوگا اور جو صاحبان برہمو سماج ہمیشہ عقل عقل کرتے ہیں ان کی عقل کا بھی قصہ پاک ہوجائے گا۔ غرض ہم یقیناً جانتے ہیں جو ہماری کتاب کی اسی دن پوری پوری تاثیر ہوگی اور اسی وقت اس کا ٹھیک ٹھیک قدر بھی معلوم ہوگا کہ جب بمقابلہ اس کی حقانیت کی دلائل کے کوئی صاحب اپنی کتاب کی بھی دلائل پیش کریں گے یا اس زمانہ کے آزاد مشربوں کی طرح صرف اپنے خود تراشیدہ عقائد پر وجوہات دکھلائیں گے کیونکہ ہر یک چیزکا قدر ومنزلت مقابلہ سے ہی معلوم ہوتا ہے۔ اور پھول کی خوبی اور لطافت تب ہی ظاہر ہوتی ہے کہ جب خار بھی اس کے پہلو میں ہو۔ گر نہ بودے در مقابل روئے مکروہ وسیہ کس چہ دانستے جمال شاہد گلفام را گرنیفتادے بخصمے کار در جنگ و نبرد کے شدے جوہر عیاں شمشیر خوں آشام را روشنی را قدر از تاریکی است و تیرگی واز جہالت ہاست عزو وقر عقل تام را حجت صادق زنقض و قدح روشن تر شود عذر نامعقول ثابت مے کند الزام را اور اس جگہ یہ بھی التماس ہے کہ جو صاحب ردلکھنے کی طرف متوجہ ہوں وہ اس بات کو یاد رکھیں کہ اگر اظہار حق منظور ہے اور انصاف مدنظر ہے اور پورا کرنا شرط اشتہار کا مقصودِ خاطر ہے تو ہماری دلائل کو اپنی کتاب میں تمام و کمال نقل کریں اور نمبروار جواب دیں۔ اس طرح پر کہ اوّل ہماری دلیل کو بالفاظہ درج فرماویں اور پھر اس کا جواب بہ تصریح لکھیں کہ جس میں کسی طرح کا اجمال اور اہمال نہ ہو کہ تاہریک منصف پر نظر ڈالتے ہی روشن ہوجائے کہ جواب ادا ہوگیا یا نہیں۔ کیونکہ خلاصوں میں پوری پوری کیفیت استدلال کی معلوم نہیں ہوسکتی اور بہت سے ایسے مطالب ہوتے ہیں کہ بروقت اختصار کے معاندین کے خائنانہ تصرفات سے یا ان کی جہالت اور سادہ لوحی سے فوت ہوجاتے ہیں بلکہ بسا اوقات حذف و اسقاط سے اصل مدعا شخص مدلل کا کچھ کا کچھ بن جاتا ہے پھر ایسی حالت