پہلے ایک بڑی تحقیقات کی گئی اورہریک مذہب کی کتاب دیانت اور امانت اورخوض اورتدبر سے دیکھی گئی اورفرقانِ مجید اوران کتابوں کا باہم مقابلہ بھی کیا گیا اور زبانی مباحثات بھی اکثر قوموں کے بزرگ علماءسے ہوتے رہے۔ غرض جہاں تک طاقت بشری ہے ہیں اور نہ کان سے سن سکتے ہیں اور نہ ہاتھ سے ٹٹول سکتے ہیں اور نہ اس دنیا کی تواریخ سے دریافت کرسکتے ہیں تو اُس وقت اُس کا ایک تیسرا رفیق بنتا ہے کہ جس کا نام الہام اور وحی ہے اور قانون قدرت بھی یہی چاہتا ہے کہ جیسے پہلے دو مواضع میں عقل ناتمام کو دو رفیق میسر آگئے ہیں تیسرے موضع میں بھی میسر آیا ہو۔ کیونکہ قوانین فطرتیہ میں اختلاف نہیں ہوسکتا بالخصوص جبکہ خدا نے دنیا کے علوم اور فنون میں کہ جن کے نقصان اور سہو اور خطا میں چنداں حرج بھی نہیں انسان کو ناقص رکھنا نہیں چاہا تو اس صورت میں خدا کی نسبت یہ بڑی بدگمانی ہوگی جو ایسا خیال کیا جاوے جو اُس نے ان امور کی معرفت تامہ کے بارے میں کہ جن پر کامل یقین رکھنا نجاتِ اُخروی کی شرط ہے اور جن کی نسبت شک رکھنے سے جہنم ابدی طیار ہے انسان کو ناقص رکھنا چاہا ہے اور اس کے علم اخروی کو صرف ایسے ایسے ناقص خیالات پر ختم کردیا ہے کہ جن کی محض اٹکلوں پر ہی ساری بنیاد ہے اور ایسا ذریعہ اس کے لئے کوئی بھی مقرر نہیں کیا کہ جو شہادتِ واقعہ دے کر اس کے دل کو یہ تسلی اور تشفی بخشے کہ وہ اصولِ نجات کہ جن کا ہونا عقل بطور قیاس اور اٹکل کے تجویز کرتی ہے وہ حقیقت میں موجود ہی ہیں اور جس ضرورت کو عقل قائم کرتی ہے وہ فرضی ضرورت نہیں بلکہ حقیقی اور واقعی ضرورت ہے اب جبکہ یہ ثابت ہوا کہ الٰہیات میں یقین کامل صرف الہام ہی کے ذریعہ سے ملتا ہے اور انسان کو اپنی نجات کے لئے یقین کامل کی ضرورت ہے اور خود بغیر یقین کامل کے ایمان سلامت لے جانا مشکل۔ تو نتیجہ ظاہر ہے کہ انسان کو الہام کی ضرورت ہے اور اس جگہ یہ بھی جاننا چاہیئے کہ اگرچہ ہریک الہامِ الٰہی یقین دلانے کے لئے ہی آیا تھا لیکن قرآن شریف نے اس اعلیٰ درجہ یقین کی بنیاد ڈالی کہ بس حد ہی کردی تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ پہلے جتنے الہام خدا کی طرف سے نازل ہوئے