ہریک طور کی کوشش اور جانفشانی اظہار حق کے لئے کی گئی۔ بالآخر ان تمام تحقیقاتوں سے یہ امر بپایہ ¿ ثبوت پہنچ گیا کہ آج رُوئے زمین پر سب الہامی کتابوں میں سے ایک فرقان مجید ہی ہے کہ جس کا کلامِ الٰہی ہونا دلائل قطعیہ سے ثابت ہے۔ وہ صرف شہادت واقعہ کی ادا کرتے رہے۔ اور ان کی ساری طرز منقولات کی طرز تھی اور اسی باعث سے وہ آخر میں بگڑ گئے اور خود غرضوں اور خود پرستوں نے کچھ کا کچھ سمجھ لیا۔ لیکن قرآن شریف کی تعلیم نے عقل کا بھی سارا بوجھ آپ ہی اٹھالیا۔ اور انسان کو ہریک طرح کی مشکلات سے خلاصی بخشی۔ آپ ہی مخبر صادق ہوکر الٰہیات کے واقعات کی خبردی۔ اور پھر آپ ہی عقلی طور پر اس خبر کو بپایہ ¿ ثبوت پہنچایا۔ جو شخص دیکھے اسے معلوم ہو کہ قرآن شریف میں دو امر کا التزام اول سے آخر تک پایا جاتا ہے۔ ایک عقلی وجوہ اور دوسری الہامی شہادت۔ یہ دونوں امر فرقان مجید میں دو بزرگ نہروں کی طرح جاری ہیں۔ جو ایک دوسرے کے محاذی اور ایک دوسرے پر اثر ڈالتے چلے جاتے ہیں۔ عقلی وجوہ کی جو نہر ہے۔ وہ یہ ظاہر کرتی گئی ہے کہ یہ امر ایسا ہونا چاہیئے اور جو اس کے مقابلہ پر الہامی شہادت کی نہر ہے۔ وہ بزرگ اور راستباز مخبر کی طرح یہ دلوں کو تسلی بخشتی گئی ہے کہ واقعہ میں بھی ایسا ہی ہے۔ اور طرز فرقانی سے جو طالب حق کو حق کے معلوم کرنے میں آسانی ہے وہ بھی ظاہر ہے کیونکہ پڑھنے والا فرقان مجید کا ساتھ ساتھ دلائل عقلی کو بھی معلوم کرتا جاتا ہے۔ ایسے دلائل کہ جس سے زیادہ تر محکم دلائل کسی دفتر فلسفی میں مرقوم نہیں۔ جیسا کہ ہم اس دعوےٰ کو اسی کتاب کی فصل اول میں ثابت کریں گے۔ اور پھر دوسری طرف الہام الٰہی سے شہادت واقعہ پاکر اعلیٰ درجہ یقین کو پہنچ جاتا ہے اور یہ سب کچھ اس کو مفت ملتا ہے جو دوسرے شخص کو ساری عمر کی مغزخواری اور جان کنی سے بھی نہیں مل سکتا۔ پس ثابت ہوا کہ یقینی اور کامل اور آسان ذریعہ شناخت اصولِ حقہ کا اور ان سب عقائد کا کہ جن کے علم یقینی پر ہماری نجات موقوف ہے۔ صرف قرآنِ شریف ہے اور یہی ثابت کرنا تھا۔ منہ ۔