باقی سب کتابوں کے اصول بگڑ گئے ہیں اور ایسی جعلی اور مصنوعی اور اس قدر طریقہ ¿ مستقیمہ ¿ حکمت اور مجری طبعی سے دور جاپڑے ہیں کہ ان کے لکھنے سے بھی ہمیں شرم آتی ہے اور یہ قول ہمارا بلا تحقیق نہیں میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس کتاب کی تالیف سے امر دیگر ہے اور خود اس شے کا ثابت ہوجانا امر دیگر بہرحال عقل کے لئے ایک رفیق کی حاجت ہوئی کہ تا وہ رفیق عقل کے اس قیاسی اور ناقص قول کا کہ جو ہونا چاہیئے کے لفظ سے بولا جاتا ہے مشہودی اور کامل قول سے جو ہے کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے جبر نقصان کرے اور واقعات سے جیسا کہ وہ نفس الامر میں واقعہ ہیں آگاہی بخشے سو خدا نے جو بڑا ہی رحیم اور کریم ہے اور انسان کو مراتب قصوی یقین تک پہنچانا چاہتا ہے اس حاجت کو پوری کیا ہے اور عقل کے لئے کئی رفیق مقرر کرکے راستہ یقین کامل کا اس پر کھول دیا ہے تانفس انسان کا کہ جس کی ساری سعادت اور نجات یقین کامل پر موقوف ہے اپنی سعادت مطلوبہ سے محروم نہ رہے۔ اور ہونا چاہیئے کے نازک اور پُرخطر پل سے کہ عقل نے شکوک اور شبہات کے دریا پر باندھا ہے بہت جلد آگے عبور کرکے ہے کے قصر عالی میں جو دارالامن والا طمینان ہے داخل ہوجائے اور وہ رفیق عقل کے جو اس کے یار اور مددگار ہیں۔ ہر مقام اور موقعہ میں الگ الگ ہیں۔ لیکن از روئے حصر عقلی کے تین سے زیادہ نہیں اور ان تینوں کی تفصیل اس طرح پر ہے کہ اگر حکم عقل کا دنیا کے محسوسات اور مشہودات سے متعلق ہو جو ہر روز دیکھے جاتے یا سنے جاتے یا سونگھے جاتے یا ٹٹولے جاتے ہیں تو اس وقت رفیق اس کا جو اس کے حکم کو یقین کامل تک پہنچاوے مشاہدہ صحیحہ ہے کہ جس کا نام تجربہ ہے۔ اور اگر حکم عقل کا ان حوادث اور واقعات سے متعلق ہو جو مختلف ازمنہ اور امکنہ میں صدور پاتے رہے ہیں یا صدور پاتے ہیں تو اس وقت اس کا ایک اور رفیق بنتا ہے کہ جس کانام تواریخ اور اخبار اور خطوط اور مراسلات ہے اور وہ بھی تجربہ کی طرح عقل کی دود آمیز روشنی کو ایسا مصفا کردیتا ہے کہ پھر اس میں شک کرنا ایک حمق اور جنون اور سودا ہوتا ہے اور اگر حکم عقل کا ان واقعات سے متعلق ہو جو ماوراءالمحسوسات ہیں جن کو ہم نہ آنکھ سے دیکھ سکتے