صاحبو! میں نے بہ یقین تمام معلوم کرلیا ہے اور جو شخص ان باتوں پر غور کرے گا کہ جن پر مَیں نے غور کی ہے وہ بھی بہ یقین تمام معلوم کرلے گا کہ وہ سب اصول کہ جن پر ایمان لانا ہریک طالب سعادت پر واجب ہے اور جن پر ہم سب کی نجات موقوف ہے اور جن سے ساری اُخروی خوشحالی انسان کی وابستہ ہے وہ صرف قرآن شریف ہی میں محفوظ ہیں اور کی معرفت اصول حقہ کے لئے یقینی اور کامل اور آسان ذریعہ نہیں سو اگرچہ یہ وہم ان کا الہام کے بحث میں جو انشاءاللہ عنقریب بہ تفصیل تمام اسی کتاب میں درج ہوگی جیسا کہ چاہیئے دور کیا جائے گا مگر اس مقام میں بھی وہم مذکور کا قلع و قمع کرنا ضروری ہے سو واضح ہو کہ اگرچہ یہ سچ بات ہے کہ عقل بھی خدا نے انسان کو ایک چراغ عطا کیا ہے کہ جس کی روشنی اس کو حق اور راستی کی طرف کھینچتی ہے اور کئی طرح کے شکوک اور شبہات سے بچاتی ہے اور انواع و اقسام کے بے بنیاد خیالوں اور بے جا وساوس کو دور کرتی ہے نہایت مفید ہے بہت ضروری ہے بڑی نعمت ہے مگر پھر بھی باوجود ان سب باتوں اور ان تمام صفتوں کے اس میں یہ نقصان ہے کہ صرف وہی اکیلی معرفت حقائق اشیاءمیں مرتبہ یقین کامل تک نہیں پہنچا سکتی کیونکہ مرتبہ یقین کامل کا یہ ہے کہ جیسا کہ حقائق اشیاءکے واقعہ میں موجود ہیں انسان کو بھی ان پر ایسا ہی یقین آجائے کہ ہاں حقیقت میں موجود ہیں مگر مجرد عقل انسان کو اس اعلیٰ درجہ یقین کا مالک نہیں بنا سکتی۔ کیونکہ غایت درجہ حکم عقل کا یہ ہے کہ وہ کسی شے کے موجود ہونے کی ضرورت کو ثابت کرے جیسا کسی چیز کی نسبت یہ حکم دے کہ اس چیز کا ہونا ضروری ہے یا یہ چیز ہونی چاہیئے مگر ایسا حکم ہرگز نہیں دے سکتی کہ واقعہ میں یہ چیز ہے بھی اور یہ پایہ ¿ یقین کامل کا کہ علم انسان کا کسی امر کی نسبت ہونا چاہیئے کے مرتبہ سے ترقی کرکے ہے کے مرتبہ تک پہنچ جائے تب حاصل ہوتا ہے کہ جب عقل کے ساتھ کوئی دوسرا ایسا رفیق مل جاتا ہے کہ جو اس کی قیاسی وجوہات کو تصدیق کرکے واقعات مشہودہ کا لباس پہناتا ہے یعنے جس امر کی نسبت عقل کہتی ہے کہ ہونا چاہیئے وہ رفیق اس امر کی نسبت یہ خبر دے دیتا ہے کہ واقعہ میں وہ امر موجود بھی ہے۔ کیونکہ جیسا کہ ہم ابھی بیان کرچکے ہیں عقل صرف ضرورت شے کو ثابت کرتی ہے خود شے کو ثابت نہیں کرسکتی۔ اور ظاہر ہے کہ کسی شے کی ضرورت کا ثابت ہونا