حق ہونا دلائل عقلیہ سے ثابت ہو تو پھر یہ سوال ہوگا کہ وہ عقائد حقہ کیونکر ہمیں معلوم ہوں اور کس یقینی اور کامل اور آسان ذریعہ سے ہم ان تمام عقائد کو معہ ان کی دلائل کے با © ٓسانی دریافت کرلیں اور حق الیقین کے مرتبہ تک پہنچ جائیں پس اس کے جواب میں عرض کیا جاتا ہے کہ وہ یقینی اور کامل اور آسان ذریعہ کہ جس سے بغیر تکلیف اور مشقت اور مزاحمت شکوک اور شبہات اور خطا اور سہو کے اصول صحیحہ معہ ان کی دلائل عقلیہ کے معلوم ہوجائیں اور یقین کامل سے معلوم ہوں وہ قرآن شریف ہے اور بجز اس کے دنیا میں کوئی ایسی کتاب نہیں اور نہ کوئی ایسا دوسرا ذریعہ ہے کہ جس سے یہ مقصد اعظم ہمارا پورا ہوسکے۔٭
پس جب وہی اصول جو مدار نجات کا سمجھے گئے تھے سچے نہ ہوئے تو پھر بالضرور ایسے لوگ جو ان پر بھروسہ کئے بیٹھے تھے بغیر نجات کے رہ جائیں گے اور مستوجب عذاب ابدی اور عقوبت دائمی کے ٹھہریں گے کیونکہ ان کے اپنے گھر کے اصول تو جھوٹے نکلے اور سچے اُصولوں کو جو عقل کے مطابق تھے انہوں نے پہلے ہی سے قبول نہ کیا اور یہ بات اسی دنیا میں ظاہر ہے کہ جو شخص کسی امر ممتنع اور محال یا دروغ اور باطل کو اپنا اعتقاد ٹھہراتا ہے اور مدلل اور ثابت شدہ باتوں کو قبول نہیں کرتا اس کو کیسی کیسی ندامتیں اٹھانی پڑتی ہیں اور کیا کچھ اہل تحقیق کے منہ سے سننا پڑتا ہے بلکہ اپنا ہی نفس اس کا ہر وقت اس کو ملزم قرار دیتا ہے اور بسا اوقات گھبرا کر آپ ہی اپنے دل سے خطاب کرتا ہے جو یہ کیا واہیات اعتقاد ہے جو میں نے اختیار کررکھا ہے۔ پس یہ بھی ایک عذابِ روحانی ہے جو اسی جہان میں اس پر نازل ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ منہ
یہ قول ہمارا جو یقینی اور کامل اور آسان ذریعہ شناخت عقائد حقہ کا بجز قرآن شریف کے اور کوئی نہیں اپنے موقعہ پر بدلائل کاملہ ثابت کیا گیا ہے اور جو لوگ دوسری کتابوں کے پابند ہیں ان کے اصولوں کا غلط اور باطل اور نادرست ہونا بکمال تحقیق دکھلایا گیا ہے مگر شائد اس جگہ برہمو سماج والے جو کسی کتاب الہامی کے پابند نہیں اور اصول حقہ کے جاننے میں صرف اپنی ہی عقل کو کافی سمجھتے ہیں اس وہم کو دل میں جگہ دیں کہ کیا مجرد عقل انسان