پر رکھے اور ایسی باتوں پر جو چھٹپن میں کسی پالنے والی ماما نے سکھائی تھیں مغرور اور فریفتہ نہ رہے کیونکہ صرف ان اوہام اور خیالات پر بھروسہ کرکے بیٹھے رہنا کہ جن کی حقیت کی اپنے ہاتھ میں ایک بھی دلیل نہیں حقیقت میں اپنے نفس کو آپ دھوکا دینا ہے ہریک عاقل جانتا اور سمجھتا ہے کہ ایسی کتابیں یا ایسے اصول کتابوں کے کہ جن کو مختلف قوموں نے خدا کی رضامندی اور اپنی رستگاری کا وسیلہ سمجھ رکھا ہے اور جنکے نہ ماننے سے ایک قوم دوسری قوم کو دوزخ کی طرف بھیج رہی ہے علاوہ شہادت الہامیہ کے دلائل عقلیہ سے بھی ثابت کرنا اشد ضروری ہے کیونکہ اگرچہ شہادتِ الہامی بڑی معتبر خبر ہے اور استکمال مراتب یقین کا اسی پر موقوف ہے لیکن اگر کوئی کتاب مدعی الہام کی کسی ایسے امر کی تعلیم کرے کہ جس کے امتناع پر کھلا کھلی دلائل عقلیہ قائم ہوتی ہیں تو وہ امر ہرگز درست نہیں ٹھہر سکتا بلکہ وہ کتاب ہی باطل یا محرف یا مبدل المعنی کہلائے گی کہ جس میں کوئی ایسا خلاف عقل امر لکھا گیا پس جبکہ تصفیہ ہریک امر کے جائز یا ممتنع ہونے کا عقل ہی کے حکم پر موقوف ہے اور ممکن اور محال کی شناخت کرنے کیلئے عقل ہی معیار ہے تو اس سے لازم آیا۔ کہ حقیت اصول نجات کی بھی عقل ہی سے ثابت کی جائے کیونکہ اگر اُصول مذاہب مختلفہ کے دلائل عقلیہ سے ثابت نہ ہوں بلکہ ان کا باطل اور ممتنع اور محال ہونا ثابت ہوتو پھر ہمیں کیونکر معلوم ہو کہ زید کے اصول سچے اور بکر کے جھوٹے ہیں یا ہندوﺅں کی پستک غلط اور بنی اسرائیل کی کتابیں صحیح ہیں اور نیز اگر حق اور باطل میں عقلاً کچھ فرق قائم نہ ہوتو پھر اس حالت میں کیونکر ایک طالب حق کا جھوٹ اور سچ میں تمیز کر کے جھوٹ کو چھوڑے اور سچ کو اختیار کرے اور کیونکر ایسے اصولوں کے نہ ماننے سے کوئی شخص خداوند تعالیٰ کے حضور میں ملزم ٹھہرے٭۔اور جبکہ ہم فی الحقیقت اپنی نجات کیلئے ایسے عقائد کے محتاج ہیں کہ جنکا
غیر معقول اصول کہ جن کے امتناع پر عقل دلائل بینہ پیش کرتی ہے ہرگز سچے نہیں ہوسکتے کیونکہ اگر وہ سچے ہوں تو پھر ہر یک امر میں دلائل قطعیہ عقلیہ کا اعتبار اٹھ جائے گا۔