خاکساریم و سخن از رہ غربت گوئم یعلم اللّٰہ کہ بکس نیست غبارے مارا مانہ بیہودہ پے ایں سروکارے برویم جلوئہ حسن کشد جانب یارے مارا صاحبو! انسان کی دانشمندی اور زیرکی سب اسی میں ہے کہ وہ ان اصولوں اور اعتقادوں کو جو بعد مرنے کے موجب سعادتِ ابدی یا شقاوتِ ابدی کا ٹھہریں گے اسی زندگی میں خوب معلوم کرکے حق پر قائم اور باطل سے گریزاں ہو اور اپنے ان نازک عقائد کی بنا کہ جن کو مدار نجات کا جانتا ہے اور آخری خوشحالی کا باعث تصور کرتا ہے ثبوتِ کامل اور مستحکم میں بہ تفصیل تمام ذکر کریں گے۔ اور اگر یہ شبہ پیدا ہو کہ خدائے تعالیٰ نے حقائق اور معارف دینی کو اپنی ساری کتابوں میں برابر کیوں درج نہ فرمایا اور قرآن شریف کو سب سے زیادہ جامع کمالات کیوں رکھا۔ تو ایسا شبہ بھی صرف اس شخص کے دل میں گزرے گا کہ جو وحی کی حقیقت کو نہیں جانتا اور اس بات پر اطلاع نہیں رکھتا کہ کن تحریکات سے اور کس طرح پر وحی نازل ہوتی ہے سو ایسے شخص پر واضح رہے کہ اصل حقیقت وحی کی یہ ہے جو نزول وحی کا بغیر کسی موجب کے جو مستدعی نزول وحی ہو ہرگز نہیں ہوتا۔ بلکہ ضرورت کے پیش آجانے کے بعد ہوتا ہے اور جیسی جیسی ضرورتیں پیش آتی ہیں بمطابق ان کے وحی بھی نازل ہوتی ہے کیونکہ وحی کے باب میں یہی عادت اللہ جاری ہے کہ جب تک باعث محرکِ وحی پیدا نہ ہولے تب تک وحی نازل نہیں ہوتی۔ اور خود ظاہر بھی ہے جو بغیر موجودگی کسی باعث کے جو تحریک وحی کی کرتا ہو یونہی بلا موجب وحی کا نازل ہوجانا ایک بے فائدہ کام ہے جو خداوند تعالیٰ کی طرف جو حکیم مطلق ہے اور ہریک کام برعایت حکمت اور مصلحت اور مقتضاءوقت کے کرتا ہے منسوب نہیں ہوسکتا۔ پس سمجھنا چاہئیے کہ جو قرآن شریف میں تعلیم حقانی کامل اور مفصل طور پر بیان کی گئی اور دوسری کتابوں میں بیان نہ ہوئی یا جو جو امور تکمیل دین کے اس میں لکھے گئے اور دوسری کتابوں میں نہ لکھے گئے تو اس کا یہی باعث ہے کہ پہلی کتابوں کو وہ تمام وجوہ محرک وحی کے پیش نہ آئے اور قرآن شریف کو پیش آگئے۔ اور خود ظاہر ہوجانا ان تمام وجوہِ محرکہ وحی کا کسی پہلے عہد میں قبل عہد قرآن شریف کے ایک امر محال تھا۔ چنانچہ اس بات کا ثبوت بھی فصل اوّل میں بدلائل کاملہ دیا جائے گا۔ منہ۔