غم خلق خدا صرف اززباں خوردن چہ کارست ایں
گرش صد جاں بہ پاریزم ہنوزش عذر میخواہم
چو شام پر غبار و تیرہ حال عالمے بینم
خدا بروے فرود آرد دعا ہائے سحرگاہم
سو اب سب ارباب صدق و صفا کی خدمت میں التماس ہے جو مجھ خاکسار کو ایک حقیقی خیر خواہ اور دِلی ہمدرد تصور فرما کر میری اس کتاب کو توجہ ¿ کامل سے مطالعہ فرماویں اور جیسا کہ انسان اپنے دوست کی بات میں بہت غور کرتا ہے اور جہاں تک ممکن ہو اس کی نصائح مشفقانہ کو بدظنی کی نظر سے نہیں دیکھتا اور اگر حقیقت میں وہ نصائح اس کے حق میں بہتر اور مفید ہوں تو اپنی ضد چھوڑ کر ان کو قبول کرلیتا ہے بلکہ اس دوست کا ممنون اور مشکور ہوتا ہے جو قلبی محبت اور صداقت سے اس کا ناصح بنا اور جن باتوں میں اس کی خیر اور بھلائی تھی ان سے اس کو اطلاع دے دی اسی طرح میں بھی ہریک قوم کے بزرگوں اور اربابِ علم اور فضل سے متوقع ہوں کہ جو جو میں نے براہین اور دلائل حقیت دین اسلام کے بارے میں لکھی ہیں یا جن جن وجوہات سے میں نے کلام الٰہی ہونا فرقان مجید کا اور افضل اور اعلیٰ ہونا اس کا دوسری کتب الہامیہ سے ثابت کیا ہے۔ اگر ان ثبوتوں کو کامل اور لاجواب پاویں تو انصاف اور خداترسی سے قبول فرماویں اور یونہی لاپروائی اور بدظنی سے منہ نہ پھیرلیں۔٭
اگر کوئی مخالفین اسلام میں سے یہ اعتراض کرے کہ قرآن شریف کو سب الہامی کتابوں سے افضل اور اعلیٰ قرار دینے میں یہ لازم آتا ہے کہ دوسری الہامی کتابیں ادنیٰ درجہ کی ہوں حالانکہ وہ سب ایک خدا کی کلام ہے اس میں ادنیٰ اور اعلیٰ کیونکر تجویز ہوسکتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک باعتبار نفس الہام کے سب کتابیں مساوی ہیں مگر باعتبار زیادت بیان امور مکملات دین کے بعض کو بعض پر فضیلت ہے پس اسی جہت سے قرآن شریف کو سب کتابوں پر فضیلت حاصل ہے کیونکہ جس قدر قرآن شریف میں امور تکمیل دین کے جیسے مسائل توحید اور ممانعت انواع و اقسام شرک اور معالجاتِ امراضِ روحانی اور دلائل ابطال مذاہب باطلہ اور براہین اثبات عقائد حقہ وغیرہ بکمال شد و مد بیان فرمائے گئے ہیں وہ دوسری کتابوں میں درج نہیں۔ جیسا کہ ہم ثبوت اس دعویٰ کا فصل اوّل اس کتاب