مقدّمہ
اور اس میں کئی مقصد واجب الاظہار ہیں جو ذیل میں تحریر
کئے جاتے ہیں
اول ہر ایک صاحب کی خدمت میں جو اعتقاد اور مذہب میں ہم سے مخالف ہیں بصد ادب اور غربت عرض کی جاتی ہے جو اس کتاب کی تصنیف سے ہمارا ہرگز یہ مطلب اور مدعا نہیں جو کسی دل کو رنجیدہ کیا جائے یا کسی نوع کا بے اصل جھگڑا اُٹھایا جائے بلکہ محض حق اور راستی کا ظاہر کرنا مراد دلی اور تمناءقلبی ہے اور ہم کو ہرگز منظور نہ تھا کہ اس کتاب میں کسی اپنے مخالف کے خیالات اور عندیات کا ذکر زبان پر لاتے بلکہ اپنے کام سے کام تھا اور مطلب سے مطلب مگر کیا کیجئے کہ کامل تحقیقات اور باستیفاءبیان کرنا جمیع اصولِ حقہ اور ادلہ کاملہ کا اسی پر موقوف ہے کہ ان سب اربابِ مذاہب کا جو برخلاف اصولِ حقہ کے رائے اور خیال رکھتے ہیں غلطی پر ہونا دکھلایا جائے پس اس جہت سے ان کا ذکر کرنا اور انکے شکوک کو رفع دفع کرنا ضروری اور واجب ہوا اور خود ظاہر ہے کہ کوئی ثبوت بغیر رفع کرنے عذرات فریق ثانی کے کماحقہ اپنی صداقت کو نہیں پہنچتا مثلاً جب ہم اثبات وجودِ صانع عالم کی بحث لکھیں تو تکمیل اُس بحث کی اس بات پر موقوف ہوگی جو دہریہ یعنے منکرین وجودِ خالق کائنات کے ظنون فاسدہ کو دور کیا جائے اور جب ہم حضرت باری کے خالق الارواح والا َجسام ہونے پر دلائل قائم کریں تو ہم پر انصافاًلازم ہے جو آریہ سماج ٭والوں کے اوہام اور وسواس کو بھی جو خدا تعالیٰ کے
یہ ایک نیا فرقہ ہے جو ہندوﺅں میں پیدا ہوا ہے جو اپنی مذہبی مجلس کو آریہ سماج سے موسوم کرتے ہیں۔ ان دنوں میں سرپرست بلکہ بانی مبانی اس فرقہ کے ایک پنڈت صاحب ہیں کہ جن کا