حیات فانی کا مقصد اصلی ہیں لمبے لمبے تاملوں میں پڑجاتے ہیں زبان سے تو کہتے ہیں جو ہم خدا اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں پر حقیقت میں اُن کو نہ خدا پر ایمان ہے نہ آخرت پر اگر ایک ساعت اپنے بذل اموال کی کیفیت پر نظر کریں جو خداداد نعمتوں کو اپنے نفس امارہ کے فربہ کرنے کے لئے ایک برس میں کس قدر خرچ کر ڈالتے ہیں اور پھر سوچیں جو خلق اللہ کی بھلائی اور بہبودی کے لئے ساری عمر میں خالصاً للہ کتنے کام کئے ہیں تو اپنے خیانت پیشہ ہونے پر آپ ہی رو دیں پر ان باتوں کو کون سوچے اور وہ پردے جو دل پر ہیں کیونکر دور ہوں 3 ۱ انہیں لوگوں کی پست ہمتی اور دنیا پرستی پر خیال کرکے بعض ہمارے معزز دوستوں نے جو دین کی محبت میں مثل عاشق زار پائے جاتے ہیں بمقتضائے بشریت کے ہم پر یہ اعتراض کیا ہے کہ جس صورت میں لوگوں کا یہ حال ہے تو اتنی بڑی کتاب تالیف کرنا کہ جس کی چھپوائی پر ہزارہا روپیہ خرچ آتا ہے بے موقع تھا سو ان کی خدمت والا میں یہ عرض ہے کہ اگر ہم اُن صدہا دقائق اور حقائق کو نہ لکھتے کہ جو درحقیقت کتاب کے حجم بڑھ جانے کا موجب ہیں تو پھر خود کتاب کی تالیف ہی غیر مفید ہوتی۔ رہا یہ فکر کہ اس قدر روپیہ کیونکر میسر آوے گا سو اس سے تو ہمارے دوست ہم کو مت ڈراویں اور یقین کرکے سمجھیں جو ہم کو اپنے خدائے قادر مطلق اور اپنے مولیٰ کریم پر اس سے زیادہ تر بھروسا ہے کہ جو ممسک اور خسیس لوگوں کو اپنی دولت کے اُن صندوقوں پر بھروسا ہوتا ہے کہ جن کی تالی ہر وقت اُن کی جیب میں رہتی ہے سو وہی قادر توانا اپنے دین اور اپنی وحدانیت اور اپنے بندہ کی حمایت کے لئے آپ مدد کرے گا۔3 ۲
پناہم آں توانائیست ہر آن
ز بخل ناتوانانم مترساں
مطبوعہ سفیر ہند امرت سر