خالق ہونے سے منکر ہیں مٹا ویں اور جب ہم ضرورت الہام کی دلائل تحریر کریں تو ہم پر ان شبہات کا ازالہ کرنا بھی واجب ہوگا جو برہمو سماج والوں کے دلوں میں متمکن ہورہے ہیں علاوہ اس کے یہ بات بھی نہایت پختہ تجربہ سے ثابت ہے کہ اس زمانہ کے مخالفین اسلام کی یہ عادت ہورہی ہے کہ جب تک اپنے اصولِ مسلمہ کو باطل اور خلافِ حق نہیں دیکھتے اور اپنے مذہب کے فساد پر مطلع نہیں ہوتے تب تک راستی اور صداقت دین اسلام کی کچھ بھی پروا نہیں رکھتے اور گو آفتاب صداقت دین الٰہی کا کیسا ہی ان کو چمکتا نظر آوے۔ تب بھی اس آفتاب سے دوسری طرف مونہہ پھیر لیتے ہیں پس جبکہ یہ حال ہے تو ایسی صورت میں دوسرے مذاہب کا ذکر کرنا نہ صرف جائز بلکہ دیانت اور امانت اور پوری ہمدردی کا یہی مقتضا ہے جو ضرور ذکر کیا جائے اور ان کے اوہام کے مٹانے اور نام دیانند ہے اور ہم اس وجہ سے اس فرقہ کو نیا فرقہ کہتے ہیں کہ وہ تمام اُصول کہ جن کا یہ فرقہ پابند ہے اور وہ تمام خیالات اور تاویلات کہ وید کی نسبت اس فرقہ نے پیدا کئے ہیں وہ بہ ہیئت مجموعی کسی قدیم ہندو مذہب میں نہیں پائی جاتی اور نہ کسی وید بھاش اور نہ کسی شاستر میں یکجائی طور پر ان کا پتہ ملتا ہے بلکہ منجملہ ان ذخیرہ متفرق خیالات کے کچھ تو پنڈت دیانند صاحب کے اپنے ہی دل کے بخارات ہیں اور کچھ ایسے بے جا تصرفات ہیں کہ کسی جگہ سے سر اور کسی جگہ سے ٹانگ لی گئی۔ غرض اسی قسم کی کارسازیوں سے اس فرقہ کا قالب طیار کیا گیا اور پہلا اُصول اس فرقہ کا یہی ہے جو پرمیشر روحوں اور اجسام کا خالق نہیں بلکہ یہ سب چیزیں پرمیشر کی طرح قدیم اور انادی اور اپنے وجود کی آپ ہی پرمیشر ہیں اور پرمیشر اُن کے نزدیک ایک ایسا شخص ہے جو اپنی بہادری سے یا اتفاق سے سلطنت کو پہنچ گیا ہے اور اپنے جیسی چیزوں پر حکومت کرتا ہے اور انہیں کے سہارے اور آسرے سے اس کی پرمیشری بنی ہوئی ہے ورنہ اگر وہ چیزیں نہ ہوتیں تو پھر خیر نہ تھی اور وہ سب چیزیں یعنے ارواح اور اجزاءصغار اجسام کی اپنے وجود اور بقا میں بالکل پرمیشر سے بے تعلق ہیں یہاں تک کہ اگر پرمیشر کا مرنا بھی فرض کیا جائے تو ان کا کچھ بھی حرج نہیں۔ نعوذ باللّٰہ من ھذہ الھفوات۔ منہ۔