برابر ہوسکے کیا خدا کے پاک انوار جو جو روح پر اثر ڈال سکتے ہیں اور عمیق شکوک سے نجات بخش سکتے ہیں یہ بات خدا کے غیر کو بھی حاصل ہے ہرگز نہیں ہرگز نہیں بلکہ ایسے دھوکے ان لوگوں کو لگے ہوئے ہیں جنہوں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ ہماری حقیقی نجات کس درجہ عرفان پر موقوف ہے اور طاقتِ الٰہی ہمارے روح پر کہاں تک کام کرسکتی ہے اور خدا کے بے غایت فضل سے کسؔ درجہ قربت اور شناخت پر ہم پہنچ سکتے ہیں اور وہ کس درجہ تک ہمارے آگے سے حجاب اٹھا سکتا ہے۔ ان کی معرفت
کہ اس کتاب کے حصۂ سوم کے شائع ہونے سے برہمو سماج ؔ اور آریہ سماج کے دانشمند اپنی غلطی پر متنبہ ہوکر صداقتِ حقہ کی طرف ایک پیاسہ کی طرح دوڑیں گے مگر افسوس کہ اب میں دیکھتا ہوں کہ میری فراست نے خطا کی اور مجھے اس بات کے سننے سے نہایت ہی دل شکنی ہوئی کہ برہمو صاحبوں اور آریوں نے میری کتاب کو غور سے نہیں پڑھا بالخصوص مجھ کو پنڈت شیونرائن صاحب کے ریویو کے دیکھنے سے ایک عالم تعصب کا برہمو صاحبوں کی طبیعت میں نظر آیا( خدا رحم کرے) افسوس کہ پنڈت صاحب نے ان حقانی صداقتوں سے کہ جو آفتاب کی طرح چمک رہی ہیں کچھ بھی فائدہ نہ اٹھایا اور اس قدر قوی اور مضبوط دلائل کی روشنی سے پنڈت صاحب کی تعصب کی تاریکی کچھ بھی رو بکمی نہ ہوئی۔ یہ امر یقیناً سخت حیرت کے لائق ہے کہ ایسے فہیم اور ذی علم لوگ ایسے کامل ثبوت کو دیکھ کر اس کے قبول کرنے میں دیر کریں۔ پنڈت صاحب نے اس انکار سے
صرف ظواہر پرست اور بعض مشرکوں کی طرح مخلوق پرستی تک پہنچ گئے ہیں یہ طریقہ خداوند کریم کے اِس عاجز بندہ سے دریافت کرلیں اور اُس پر چلیں۔
ترسم آں قوم کہ بر دُرد کشاں مے خندند
در سرِ کار خرابات کنند ایماں را
ربّ اغفر و ارحم۔
دوستاں عیب کنندم کہ چرا دل بتودادم
باید اول بتوگفتن کہ چنیں خوب چرائی
والفضل من اللّٰہ ولا حول ولا قوۃ الا باللّٰہ العلی العظیم۔ منہ