اٹکلوں تکؔ ہے جن سے روح کو حقیقی انشراح اور عرفان حاصل نہیں ہوتا اور اندرونی آلائشوں سے پاکیزگی میسر نہیں آتی بلکہ ایسا انسان فقط سفلی خیالات کا بندہ بن کر مقاماتِ حریری کے ابوزید کی طرح اپنے علوم و فنون کو مکرو فریب کا آلہ بناتا ہے اور سب لسانی اور خوش بیانی اُس کی دام تزویر ہی ہوتی ہے۔ کیا انسان کی کمزور عقل اپنی تنہائی کی حالت میں اس کو اس محبس سے نکال سکتی ہے کہ جو جذباتِ نفس اور جہل اور غفلت کی وجہ سے اس کے نصیب ہورہا ہے۔ کیا انسانی خیالات میں کوئی ایسی طاقت بھی موجود ہے کہ جو خدائے تعالیٰ کے علم اور قوت سے
تک رائے میری ایک محکم یقین پر قائم ہے اور بہت مضبوط امید سے میں خیال رکھتا ہوں کہ جب ہمارے منصف مزاج مخالفین نہایت غائر اور عمیق نظر سے اس طرف متوجہ ہوں گے تو خود ان کی اپنی نگاہیں ان کے وساوس دور کرنے کے لئے کافی ہوں گی۔ مجھے امید تھی
کل یوم ھو فی شان۔ ففھمنا ھا سلیمان و جحدوا بھا و استیقنتھا انفسھم ظلما وعلوا۔ سنلقی فی قلوبھم الرعب۔ قل جاء کم نور من اللہ فلا تکفروا ان کنتم مؤمنین۔ سلام علی ابراھیم صافیناہ و نجیناہ من الغم تفردنا بذالک۔ فاتخذوا من مقام ابراھیمؔ مصلّٰی۔ اور کہیں گے کہ یہ جھوٹ بنالیا ہے ہم نے اپنے بزرگوں میں یعنی اولیاء سلف میں یہ نہیں سنا حالانکہ بنی آدم یکساں پیدا نہیں کئے گئے بعض کو بعض پر خدا نے بزرگی دی ہے اور ان کو دوسروں میں سے چن لیا ہے یہی سچ ہے تا مومنوں کے لئے نشان ہو کیا تم خیال کرتے ہو کہ ہمارے عجیب کام فقط اصحاب کہف تک ہی ختم ہیں نہیں بلکہ خدا تو ہمیشہ صاحب عجائب ہے اور اس کے عجائبات کبھی منقطع نہیں ہوتے۔ ہر یک دن میں وہ ایک شان میں ہے پس ہم نے وہ نشان سلیمان کو سمجھائے یعنی اس عاجز کو اور لوگوں نے محض ظلم کی راہ سے انکار کیا حالانکہ ان کے دل یقین کرگئے۔ سو عنقریب ہم ان کے دلوں میں رعب ڈال دیں گے کہہ خدا کی طرف سے نور اترا ہے سو تم اگر مومن ہو تو انکار مت کرو۔ ابراہیم پر سلام ہم نے اُس کو خالص کیا اور غم سے نجات دی۔ ہم نے ہی یہ کام کیا۔ سو تم ابراہیم کے نقش قدم پر چلو یعنی رسول کریم ؐ کا طریقۂ حقہ کہ جو حال کے زمانہ میں اکثر لوگوں پر مشتبہ ہوگیا ہے اور بعض یہودیوں کی طرح