صرف ناکارہ وہموں تک ختم ہے اور جو معرفت یقینی اور قطعی اور انسان کی نجات کے لئے ازبس ضروری ہے وہ ان کی عقل عجیب کے نزدیک محال اور ممتنع ہے لیکن جاننا چاہئے کہ یہ ان کی سخت غلطی ہے کہ جو عقلی خیالات پر قناعت کررہے ہیں۔ حقّانی معرفت کی راہ میں بے شمار راز ہیں جن کو انسان کی کمزور اور دود آمیز عقل دریافت نہیں کرسکتی اور قیاسی طاقت بباعث اپنی نہایت ضُعف کی الوہیّت کے بلند اسرار تک ہرگز پہنچ نہیں سکتی۔ سو اُس بلندی تک پہنچنے کے لئے بجز خدا کے عالی کلام کے اور کوئی زینہ نہیں۔ جو شخص دلی سچائی سے خدا کا طالب ہے اُس کو اُسی زینہ کی حاجت پڑتی ہے اور تاوقتیکہ وہ محکم اور بلند زینہ اپنی ترقیات کا ذریعہ نہ ٹھہرایا جاوؔ ے تب تک انسان حقّانی معرفت کے بلند مینار تک ہرگز پہنچ نہیں سکتا بلکہ ایسے تاریک اور پرظلمت خیالات میں گرفتار رہتا ہے کہ جو غیر تسلی بخش اور بعید از حقیقت ہیں اور بباعث فقدان اس حقانی معرفت کے اس کے سب معلومات بھی ناقص اور ادھورے رہتے ہیں اور جیسی سوئی بغیر دھاگہ کے نکمی اور ناکارہ ہے اور کوئیؔ کام سینے کا اُس سے انجام پذیر نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح عقلی فلسفہ بغیر تائید خدا کی کلام کے نہایت متزلزل اور غیر مستحکم اور بے ثبات اور بے بنیاد ہے۔ پائے استدلالیاں چوبین بود پائے چوبین سخت بے تمکین بود نہ صرف حدِّ انصاف سے ہی تجاوز کیا ہے بلکہ حق پوشی کرکے اپنی قوم کی ہمدردی سے بلکہ خدا سے بھی فارغ ہو بیٹھے ہیں اور مجھے اس بات کے ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں کہ پنڈت صاحب کا انکار کس قدر ناانصافی سے بھرا ہوا ہے۔ یہ بات خود اُس شخص پر کھل سکتی ہے کہ جو اوّل میری کتاب کو دیکھے کہ میں نے کیونکر ضرورت وحی اللہ اور نیز اس کے وجود کا ثبوت دیا ہے اور پھر پنڈت صاحب کی تحریر پر نظر ڈالے کہ انہوں نے میرے مقابلہ پر کیا لکھا ہے اور میرے دلائل کا کیا جواب دیا ہے۔ جو لوگ پنڈت صاحب کی قوم میں سے اس کتاب کو غور سے پڑھیں گے ان کی روحوں پر ہرگز پنڈت صاحب پردہ ڈال نہیں سکتے بشرطیکہ کوئی فطرتی پردہ نہ ہو۔