کیا جاسکتا ہے کیا ایسا خیال کرنے سے وہ کامل رہ سکتا ہے یا اس کی روحانی طاقتوں کا ثبوت میسر آسکتا ہے۔ حقیقی تسلی جس کی بنیاد ایک محکم یقین پر ہونی چاہئے صرف قیاسی خیالات سے ممکن نہیں بلکہ خیالات قیاسی کی بڑی سے بڑی ترقی ظنِّ غالب تک ہے اور وہ بھی اس حالت میں کہ جب قیاس انکار کی طرف جھک نہ جائے غرض عقلی وجوہ بالکل غیر تسلی بخش اور آخری حدِّ عرفان سے پیچھے رہے ہوئے ہیں اور اُن کی اعلیٰ سے اعلیٰ پہنچ صرف ظاہری وہ بھی ایک ساعت کے لئے صادقانہ نیت کو استعمال میں لاویں۔ جس حالت میں ان کی فراخ دلی اور نیک طینتی ان کی قوم میں مسلّم الثبوت ہے تو ہم کیونکر ناامید ہوسکتے ہیں یا کیونکر گمان کرسکتے ہیں کہ اس نیک منشی کا اس سے زیادہ وسیع ہونا ممکن نہیں اس لئے گو میں نے اب تک کسی صاحب مخالف کو منصفانہ قدم اٹھاتے نہیں پایا لیکن تاہم ابھی فرق بیّن کرے گا۔ خدا لکھ چکا ہے کہ غلبہ مجھ کو اور میرے رسولوں کو ہے۔ کوئی نہیں کہ ؔ جو خدا کی باتوں کو ٹال دے۔ یہ خدا کے کام دین کی سچائی کے لئے حجت ہیں۔ میں اپنی طرف سے تجھے مدد دوں گا میں خود تیرا غم دور کروں گا۔ اور تیرا خدا قادر ہے۔ تو میرے ساتھ اور میں تیرے ساتھ ہوں تیرے لئے میں نے رات اور دن پیدا کیا جو کچھ تو چاہے کر کہ میں نے تجھے بخشا۔ تو مجھ سے وہ منزلت رکھتا ہے جس کی لوگوں کو خبر نہیں۔ اس آخری فقرہ کا یہ مطلب نہیں کہ منہیات شرعیہ تجھے حلال ہیں بلکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ تیری نظر میں منہیات مکروہ کئے گئے ہیں اور اعمال صالحہ کی محبت تیری فطرت میں ڈالی گئی ہے۔ گویا جو خدا کی مرضی ہے وہ بندہ کی مرضی بنائی گئی اور سب ایمانیات اس کی نظر میں بطور فطرتی تقاضا کے محبوب کی گئی۔ وذالک فضل اللّٰہ یؤتیہ من یشآء۔ وقالوا ان ھو افک افتری۔ وما سمعنا بھذا فی اٰبائنا الاولین ولقد کرمنا بنی ادم وفضلنا بعضھم علی بعض۔ اجتبیناھم و اصطفیناھم کذالک لیکون اٰیۃ للمؤمنین۔ ام حسبتم ان اصحاب الکھف و الرقیم کانوا من اٰیاتنا عجبا۔ قل ھو اللہ عجیب۔