کی نازل ہونے کی بیان کرکے پھر بطور توضیح جسمانی قانون کا حوالہ دیا تادانشمند آدمی جسمانی قانون کو دیکھ کر کہ ایک واضحہ اور بدیہی امر ہے خدائے تعالیٰ کے روحانی قانون کو بآسانی سمجھ سکے اور اس جگہ یہ بھی واضح رہے کہ جو لوگ بعض کتابوں کا منزل من اللہ ہونا مانتے ہیں اُن کو تو خود اقرار کرنا پڑتا ہے کہ وہ ؔ کتابیں ایسے وقتوں میں نازل ہوئی ہیں کہ جب ان کے نزول کی ضرورت تھی۔ پس اسی اقرار کے ضمن میں ان کو یہ دوسرا اقرار کرنا بھی لازم آیا کہ ضرورت کے وقتوں میں کتابوں کا نازل کرنا خدائے تعالیٰ کی عادت ہے لیکن ایسے لوگ کہ جو ضرورت کتبِ الٰہیہ سے منکر ہیں
کتاب سے بھی مستخرج ہوسکتے ہیں۔ تو ؔ مناظرہ کا سیدھا راستہ یہ ہے کہ ہ شرائط مذکورہ بالا کی رعایت سے اس کتاب کے لطائف و معارف و خواص پیش کرے اور جس طرح قرآن تمام عقائد باطلہ کی ردّ پر مشتمل ہے اور جس طرح وہ پاک کلام ہریک عقیدہ صحیحہ کو دلائلِ عقلیہ سے
یو مسٹ ڈو وہات آئی ٹولڈ یو۔ تم کو وہ کرنا چاہئے جو میں نے فرمایا ہے اشکر نعمتی رأیت خدیجتی انک الیوم لذوحظ عظیم۔ انت محدث اللّٰہ فیک مادۃ فاروقیۃ۔ اے داؤد خلق اللہ کے ساتھ رفق اور احسان کے ساتھ معاملہ کر اور سلام کا جواب احسن طور پردے۔ اور اپنے رب کی نعمت کا لوگوں کے پاس ذکر کر میری نعمت کا شکر کر کہ تُو نے اُس کو قبل از وقت پایا آج تجھے حظ عظیم ہے تو محدث اللہ ہے تجھ میں مادۂ فاروقی ہے۔ سلام علیک یا ابراھیم۔ انک الیوم لدینا مکین امین۔ ذو عقل متین۔ حب اللّٰہ خلیل اللّٰہ اسد اللّٰہ و صل علی محمد۔ ما ودعک ربک و ما قلی۔ الم نشرح لک صدرک۔ الم نجعل لک سھولۃ فی کل امر بیت الفکر و بیت الذکر۔ و من دخلہ کان اٰمنا۔ تیرے پر سلام ہے اے ابراہیم۔ تو آج ہمارے نزدیک صاحب مرتبہ اور امانتدار اور قوی العقل ہے اور دوست خدا ہے خلیل اللہ ہے اسداللہ ہے اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) پر درود بھیج۔ یعنی یہ اس نبی کریم کی متابعت کا نتیجہ ہے اور بقیہ ترجمہ یہ ہے کہ خدا نے تجھ کو ترک نہیں کیا اور نہ وہ تجھ پر ناراض ہے کیا ہم نے تیرا سینہ نہیں کھولا۔ کیا ہم نے ہریک بات میں تیرے لئے آسانی نہیں کی کہ تجھ کو بیت الفکر اور بیت الذکر