ضلالت کیؔ مہلک تاریکی کو اس کے ذریعہ سے اٹھاتا ہے اور چونکہ جسمانی رحمتیں عام لوگوں کی نگاہ میں ایک واضح امر ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے آیت ممدوحہ میں اول ضرورت فرقان مجید
جوش ماررہے ہیں۔ اب یہ کیونکر ہوسکے کہ کوئی شخص صرف مونہہ کی واہیات باتوں سے اس نور بزرگ کی کسر شان کرے۔ ہاں اگر کسی کے دل کو یہ وہم پکڑتا ہے کہ یہ تمام دقائق و معارف و لطائف و خوؔ اص کہ جو قرآن شریف میں ثابت کرکے دکھلائے گئے ہیں کسی دوسری
کامل اجر بخشوں گا یا وفات دوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا یعنی رفع درجات کروں گا یا دنیا سے اپنی طرف اٹھاؤں گا اور تیرے تابعین کو ان پر جو منکر ہیں قیامت تک غلبہ بخشوں گا یعنی تیرے ہم عقیدہ اور ہم مشربوں کو حجت اور برہان اور برکات کے رو سے دوسرے لوگوں پر قیامت تک فائق رکھوں گا۔ پہلوں میں سے بھی ایک گروہ ہے اور پچھلوں میں سے بھی ایک گروہ ہے۔ اس جگہ عیسیٰ کے نام سے بھی یہی عاجز مراد ہے اور پھر بعد اس کے اردو میں الہام فرمایا۔ میں اپنی چمکار دکھلاؤں گا۔ اپنی قدرت نمائی سے تجھ کو اٹھاؤں گا۔ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کردے گا۔ الفتنۃ ھٰھنا فاصبر کما صبر اولو العزم۔ اس جگہ ایک فتنہ ہے سو اولوالعزم نبیوں کی طرح صبر کر۔ فلما تجلّٰی ربہ للجبل جعلہ دکا۔ جب خدا مشکلات کے پہاڑ پر تجلی کرے گا تو انہیں پاش پاش کردے گا۔ قوۃ الرحمان لعبید اللّٰہ الصمد۔ یہ خدا کی قوت ہے کہ جو اپنے بندہ کے لئے وہ غنی مطلق ظاہر کرے گا۔ مقام لا تترقی العبد فیہ بسعی الاعمال۔ یعنی عبداللہ الصمد ہونا ایک مقام ہے کہ جو بطریق موہبت خاص عطا ہوتا ہے کوششوں سے حاصل نہیں ہوسکتا۔ یا داء ودؔ عامل بالناس رفقا واحسانا واذاحییتم بتحیۃ فحیوا باحسن منھا۔ واما بنعمت ربک فحدث