جیسے برہمو سماج والے سو ان کے ملزم کرنے کیلئے اگرچہ بہت کچھ ہم لکھ چکے ہیں لیکن اگران میں ایک ذرا انصاف ہوتو ان کو وہی ایک دلیل کافی ہے کہ جو اللہ تعالیٰ نے آیات گذشتۂبالا میں آپ بیان فرمائی ہے کیونکہ جس حالت میں وہؔ لوگ مانتے ہیں کہ حیاتِ ظاہری کا تمام انتظام خدائے تعالیٰ کی طرف سے ہے اور وہی اپنی آسمانی روشنی اور بارانی پانی کے ذریعہ سے دنیا کو تاریکی اور ہلاکت سے بچاتا ہے تو پھر وہ اس اقرار سے کہاں بھاگ سکتے ہیں کہ حیات باطنی کے وسائل بھی آسمان ہی سے
ثابت کرتا ہے اور جس طرح ان صحف مقدسہ میں معارف و حقائق الٰہیہ مندرج ہیں اور جس طرح ان میں تنویرِ قلبؔ کے متعلق خواصِ عجیبہ اور تاثیراتِ غریبہ پائے جاتے ہیں جن کو ہم نے اس کتاب میں ثابت کردیا ہے وہ سب اپنی کتاب میں پیش کرکے دکھلاوے اور جب تک
عطا کیا۔ اور جو شخص بیت الذکر میں باخلاص و قصد تعبد وصحت نیت و حسن ایمان داخل ہوگا وہ سوئے خاتمہ سے امن میں آجائے گا۔ بیت الفکر سے مراد اس جگہ وہ چوبارہ ہے جس میں یہ عاجز کتاب کی تالیف کے لئے مشغول رہا ہے اور رہتا ہے اور بیت الذکر سے مراد وہ مسجد ہے کہؔ جو اس چوبارہ کے پہلو میں بنائی گئی ہے اور آخری فقرہ مذکورہ بالا اسی مسجد کی صفت میں بیان فرمایا ہے جس کے حروف سے بنائے مسجد کی تاریخ بھی نکلتی ہے اور وہ یہ ہے۔ مبارک و مبارک وکل امر مبارک یجعل فیہ یعنی یہ مسجد برکت دہندہ اور برکت یافتہ ہے اور ہریک امر مبارک اس میں کیا جائے گا۔ پھر بعد اس کے اس عاجز کی نسبت فرمایا۔ رفعت و جعلت مبارکا۔ تو اونچا کیا گیا اور مبارک بنایا گیا۔ والذین اٰمنوا ولم یلبسوا ایمانھم بظلم اولئک لھم الامن وھم مھتدون۔ یعنی جو لوگ ان برکات و انوار پر ایمان لائیں گے کہ جو تجھ کو خدائے تعالیٰ نے عطا کئے ہیں اور ایمان ان کا خالص اور وفاداری سے ہوگا تو ضلالت کی راہوں سے امن میں آجائیں گے اور وہی ہیں جو خدا کے نزدیک ہدایت یافتہ ہیں۔ یریدون ان یطفؤا نور اللّٰہ۔ قل اللّٰہ حافظہ۔ عنایۃ اللّٰہ حافظک۔ نحنؔ نزّلناہ وانا لہ لحافظون۔ اللّٰہ خیر حافظا وھو ارحم الراحمین۔ ویخوفونک من دونہ۔ ائمۃ الکفر۔ لا تخف انک انت الاعلٰی ینصرک اللّٰہ فی مواطن۔ ان یومی لفصل عظیم۔ کتب اللّٰہ لاغلبن انا ورسلی لا مبدل لکلماتہ