منصب اُسیؔ کو پہنچتا ہے کیونکہ امراض روحانی پر اُسی کو اطلاع ہے اور ازالۂ مرض اور استرداد صحت پر وہی قادر ہے پھر بعد اس کے بطور استدلال کے فرمایا کہ اللہ وہ ذات کامل الرحمت ہے کہ اُس کا قدیم سے یہی قانون قدرت ہے کہ اس تنگ حالت میں وہ ضرور مینہ برساتا ہے کہ جب لوگ ناامید ہوچکتے ہیں پھر زمین پر اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے اور وہی کارسازِ حقیقی اور ظاھراً و باطنًا قابل تعریف ہے یعنی جب سختی اپنی نہایت کو پہنچ جاتی ہے اور کوئی صورت مخلصی کی نظر نہیں آتی تو اس صورت میں اس کا یہی قانون قدیم ہے کہ وہ ضرور عاجز بندوں نہیں جو اُس سے باہر ہو کوئی حکمت نہیں جو اس کے محیط بیان سے رہ گئی ہو۔ کوئی نور نہیں جو اس کی متابعت سے نہ ملتا ہو اورؔ یہ باتیں بلاثبوت نہیں۔ کوئی ایسا امر نہیں جو صرف زبان سے کہا جاتا ہے بلکہ یہ وہ متحقق اور بدیہی الثبوت صداقت ہے کہ جو تیرہ سو برس سے برابر اپنی روشنی دکھلاتی چلی آئی ہے اور ہم نے بھی اس صداقت کو اپنی اس کتاب میں نہایت تفصیل سے لکھا ہے اور دقائق اور معارف قرآنی کو اس قدر بیان کیا ہے کہ جو ایک طالب صادق کیؔ تسلی اور تشفی کے لئے بحرِ عظیم کی طرح تیری بخششوں نے ہم کو گستاخ کردیا۔ یہ سب اسرار ہیں کہ جو اپنے اپنے اوقات پر چسپان ہیں جن کا علم حضرت عالم الغیب کو ہے پھر بعد اس کے فرمایا ھو شعنا نعسا۔ یہ دونوں فقرے شاید عبرانی ہیں اور اِن کے معنے ابھی تک اس عاجز پر نہیں کھلے۔ پھر بعد اس کے دو فقرے انگریزی ہیں جن کے الفاظ کی صحت بباعث سرعت الہام ابھی تک معلوم نہیں اور وہ یہ ہیں آئی لَو یو۔ آئی شیل گِو یوء لارج پارٹی اوف اسلام۔ چونکہ اس وقت یعنی آج کے دن اس جگہ کوئی انگریزی خوان نہیں اور نہ اس کے پورے پورے معنے کھلے ہیں اس لئے بغیر معنوں کے لکھا گیا ۔ پھر بعد اس کے یہ الہام ہے۔ یا عیسٰی انی متوفیک و رافعک الی (و مطھرک من الذین کفروا ۱؂)۔وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الٰی یوم القیامہ۔ ثلۃ من الاولین وؔ ثلۃ من الآخرین۔ اے عیسیٰ میں تجھے