خاتمہ ہوجاتا یا اگر خدائے تعالیٰ عین وقتوں پر رات اور دن اور سورج اور چاند اور ہوا اور بادل کو خدماتِ مقررہ میں نہ لگاتا تو تمام سلسلہ عالم کا درہم برہم ہوجاتا اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے آپ اشارہ فرما کر کہا ہے۔ 33333 ۔۱ 333333۔ ۲ الجزو نمبر ۵۲۔ یعنی کیا یہ منکر لوگ کہتے ہیں کہ یہ خدا کا کلام نہیں اور خدا پر جھوٹ باندھا ہے۔ اگر خدا چاہے تو اس کا اترنا بند کردے پر وہ بند نہیں کرتا کیونکہ اس کی عادت اسی پر جاری ہے کہ وہ احقاقِ حق اور ابطال باطل اپنے کلمات سے کرتا ہے۔ اور یہ
اپنا بے مثل و مانند ہونا تمام مخلوقات کے مقابلہ پر پیش کررہا ہے اور بلند آواز سے ھل من معارض کا نقارہ بجارہا ہے اور دقائق حقائقؔ اس کے صرف دو تین نہیں جس میں کوئی نادان شک بھی کرے بلکہ اس کے دقائق تو بحرِ ذخّار کی طرح جوش ماررہے ہیں اور آسمان کے ستاروں کی طرح جہاں نظر ڈالو چمکتے نظر آتے ہیں۔ کوئی صداقت
کہہ میرے پاس خدا کی گواہی ہے۔ پس کیا تم ایمان نہیں لاتے۔ یعنی خدائے تعالیٰ کا تائیداؔ ت کرنا اور اسرارِ غیبیہ پر مطلع فرمانا اور پیش از وقوع پوشیدہ خبریں بتلانا اور دعاؤں کو قبول کرنا اور مختلف زبانوں میں الہام دینا اور معارف اور حقائقِ الٰہیہ سے اطلاع بخشنا یہ سب خدا کی شہادت ہے جس کو قبول کرنا ایماندار کا فرض ہے۔ پھر بقیہ الہامات بالا کا ترجمہ یہ ہے کہ بہ تحقیق میرا رب میرے ساتھ ہے وہ مجھے راہ بتلائے گا۔ اے میرے ربّ میرے گناہ بخش اور آسمان سے رحم کر ہمارا رب عاجی ہے(اس کے معنے ابھی تک معلوم نہیں ہوئے) جن نالائق باتوں کی طرف مجھ کو بلاتے ہیں ان سے اے میرے رب مجھے زندان بہتر ہے۔ اے میرے خدا مجھ کو میرے غم سے نجات بخش اے میرے خدا اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔