وہ جسمانی یا روحانی حاجتوں کے وقت مدد فرماتا ہے یعنی جسمانی صعوبتوں کے وقت بارش وغیرہ سے اور روحانی صعوبتوں کے وقت اپنا شفا بخش کلام نازل کرنے سے عاجز بندوں کی دستگیری کرتا ہے۔ سو یہ مقدمہ بدیہی الصداقت ہے کیونکہ کسی عاقل کو اس سے انکار نہیں کہ یہ دونوں سلسلے روحانی اور جسمانی اسی وجہ سے اب تک صحیح و سالم چلے آتے ہیں کہ خداوند کریم نیست و نابود ہونے سے ان کو محفوظ رکھتا ہے مثلاً اگر خدائے تعالیٰ جسمانی سلسلہ کی حفاظت نہ کرتا اور سخت سخت قحطوں کے وقت میں باران رحمت سے دستگیری نہ فرماتا تو بالآخر نتیجہ اس کا یہی ہوتا کہ لوگ پہلی فصلوں کی جس قدر پیداوار تھی سب کی سب کھالیتے اور پھر آگے اناج کےؔ نہ ہونے سے تڑپ تڑپ کر مرجاتے اور نوع انسان کا قرآن شریف وہ کتاب ہے جس نے اپنی عظمتوں اپنی حکمتوں اپنی صداقتوں اپنی بلاغتوں اپنے لطائف و نکات اپنے انوارِ روحانی کا آپ دعویٰ کیا ہے اور اپنا بے نظیر ہوناؔ آپ ظاہر فرما دیا ہے۔ یہ بات ہرگز نہیں کہ صرف مسلمانوں نے فقط اپنے خیال میں اس کی خوبیوں کو قرار دے دیا ہے بلکہ وہ تو خود اپنی خوبیوں اور اپنے کمالات کو بیان فرماتا ہے اور اٰباء ھم فھم غافلون۔ اور اسی طرح ہم نے یوسف پر احسان کیا تاہم اس سے بدی اور فحش کو روک دیں اور تا تو ان لوگوں کو ڈراوے جن کے باپ دادوں کو کسی نے نہیں ڈرایا سو وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ اس جگہ یوسف کے لفظ سے یہی عاجز مراد ہے کہ جو باعتبار کسی روحانی مناسبت کے اطلاق پایا۔ واللہ اعلم بالصواب۔ بعد اس کے فرمایا۔ قل عندی شھادۃ من اللہ فھل انتم مؤمنون ان معی ربی سیھدین۔ رب اغفر وارحم من السمآء ربنا عاج۔ رب السجن احب الی مما یدعوننی الیہ۔ رب نجنی من غمی۔ ایلی ایلی لما سبقتنی۔ کرمہائے تو مارا کرد گستاخ۔