3 333 ۔۱؂ یعنی جو لوگ اہل کتاب اور مشرکین میں سے کافر ہوگئے اُن کا راہ راست پر آنا بجز اس کے ہرگز ممکن نہ تھا کہ ان کی طرف ایسا عظیم الشان نبی بھیجا جاوے جو ایسی عظیم الشان کتاب لایا ہے کہ جو سب الٰہی کتابوں کے معارف اور صداقتوں پر محیط اور ہریک غلطی اور نقصان سے پاک اور منزّہ ہے۔ ابؔ اس دلیل کا ثبوت دو مقدموں کے ثبوت پر موقوف ہے اوّل یہ کہ خدائے تعالیٰ کا یہی قانون قدیم ہے کہ افسوس کہاں سے یہ مادر زاد اندھے پیدا ہوگئے کہ جو اس قدر روشنی کو دیکھ کر پھر ؔ بھی اُن کی تاریکی دور نہیں ہوتی۔ ان کی باطنی بیماریوں کے مواد کس قدر ردّی اور متعفن ہورہے ہیں جنہوں نے ان کے تمام حواس ظاہری و باطنی کو بیکار کردیا ہے ذرا نہیں سوچتے کہ ہیلپ ُ یو۔ وارڈس اوفَ گوڈ کین ناٹ ایکس چینج۔ یعنی اگر تمام آدمی ناراض ہوں گے مگر خدا تمہارے ساتھ ہے وہ تمہاری مدد کرے گا۔ خدا کی باتیں بدل نہیں سکتیں۔ پھر ماسوا اس کے اور بھی چند الہامات ہوئے جو نیچے لکھے جاتے ہی۔ الخیر کلہ فی القراٰن کتاب اللہ الرحمان۔ الیہ یصعد الکلم الطیب۔ یعنی تمام بھلائی قرآنؔ میں ہے جو اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے۔ وہی اللہ جو رحمان ہے اسی رحمان کی طرف کلمات طیبہ صعود کرتے ہیں۔ ھو الذی ینزل الغیث من بعد ما قنطوا و ینشر رحمتہ۔ اللہ وہ ذات کریم ہے کہ جو ناامیدی کے پیچھے مینہ برساتا ہے اور اپنی رحمت کو دنیا میں پھیلاتا ہے یعنی عین ضرورت کے وقت تجدید دین کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ یجتبی الیہ من یشآء من عبادہ۔ جس کو چاہتا ہے بندوں میں سے چن لیتا ہے۔ وکذالک مننا علی یوسف لنصرف عنہ السوٓء والفحشاء ولتنذر قوما ما انذر